جواب تو دینا ہوگا مودی جی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گجرات میں مودی کے 15 برس حاضے متنازع رہے ہیں۔ انھیں یہ پسند نہیں کہ کوئی ان سے چبھتے ہوئےسوالات کرے

امریکہ کے معروف جریدے ’ٹائمز‘ نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا ایک طویل انٹرویو شا‏ئع کیا ہے۔

اس انٹرویو میں مودی نے جمہوریت کی بات کی ہے، سیکیولرزم کو بھارت کی روح قرار دیا ہے اور آئین کے تحفظ کےلیے مر مٹنے کی قسمیں کھائی ہیں۔

اسی انٹرویو میں جب ’ٹائمز‘ کے نامہ نگار نے مودی سے یہ پوچھا کہ کیا بھارت میں بڑے فیصلے کرنےکے لیے چین جیسی شخصی اور آمرانہ طرز کی قیادت کی ضرورت ہے ؟ تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ بھارت کبھی بھی آمرانہ نظام کو قبول نہیں کر سکے گا۔

جمہورت بقول ان کے بھارت کی رگوں اور فطرت میں شامل ہے۔

جس دن یہ انٹرویو سامنے آیا اسی دن بھارت کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی رہنما سونیا گاندھی نے نریندر مودی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ حکومت کی جوابدہی اور شفافیت کےتمام اداروں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

انھوں نے جاننا چاہا کہ حکومت نے معلومات حاصل کرنے کے قومی ادارے کے چیف انفارمیشن کمشنر کے خالی عہدے کو گذشتہ نو ماہ سے کیوں نہیں پُر کیا؟

سونیا گاندھی یہ بھی جاننا چاہتی تھیں کہ حکومت نے بدعنوانی کی جانچ کرنے والے اہم ادارے ’وجی لینس کمیشن‘ کے عہدے کو مہینوں سے کیوں خالی رکھا ہے؟

یہی نہیں انا ہزارے اور کیجریوال کی زبردست تحریک کےبعد جو احتساب کرنے والا ادارہ یعنی لوک پال کا قانون پاس ہوا تھا اس میں بھی مودی حکومت نے ترمیم کر کے اسے بے اثر کر دیا ہے۔

حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت جوابدہی اور شفافیت کےنعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن اب حکومت سے سوال کرنے والے ہر ادارے کو دبانا چاہتی ہے۔

پچھلے چند مہینوں میں حکومت نے ملک میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں بالخصوص ان تنطیموں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جو حکومت کی پالیسیوں اور خیالات سے اتفاق نہیں کرتیں۔

وزارتِ داخلہ نے بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم گرین پیس کےاثاثے منجمد کر دیے ہیں اور اس کے کام کرنے کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔ آئندہ ماہ پیسہ نہ ہونے کے سبب گرین پیس بند ہونے کا امکان ہے۔

حکومت نے امریکہ کے باوقار فورڈ فاؤنڈیشن کی فنڈنگ اور سرگرمیوں پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے۔ گجرات کی ریاستی حکومت نے مودی حکومت سے فورڈ فاؤنڈیشن پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ اس نے مذہبی یکجہتی اور ہم آننگی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سب رنگ ‘ کی مالی مدد کی تھی۔

تیستا سیٹیلواڑ اس تنطیم کی سربراہ ہیں جنھوں نے گجرات میں فساد سے متاثرہ افراد کا مقدمہ لڑنے میں مدد کی تھی۔ تیستا کے خلاف بھی مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے اور وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ حکومت نے بل گیٹس اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی بھی چھان بین شروع کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ حکومت کی جوابدہی اور شفافیت کےتمام ادارون کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

گذشتہ ایک برس میں دس ہزار سے زیادہ غیر سرکاری تنظیموں کے لائسنس منسوخ کیے گئے ہیں۔34 کے کھاتےمنجمد کیے گئے ہیں اور 70 تنظیموں پر غیر ممالک سے فنڈ حاصل کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

فنڈز فراہم کرنے والے 16 غیر ملکی اداروں اور تنظیموں پر پیشگی منظوری کی شرط عائد کر دی گئی اور کم ازکم ڈیرھ سو این جی اوز کا معائنہ کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشل اور ایکشن ایڈ جیسی تنطیمیں بھی دباؤ میں ہیں۔

ملک کی سول سوسائٹی نے حکومت کےان اقدامات کو مخالف آوازوں کو دبانےکی کوشش قرار دیا ہے۔

سول سوسائٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ کسی بھی جمہوریت میں پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی جمہوریت کے فروغ کے لیے لازمی ہوتی ہیں۔

اگر حکومت سول سوسائٹی کو دبانے کی کوشش کرے گی تو اس سے جمہوریت کا بھلا نہیں ہوگا۔ کوئی بھی معاشرہ اختلاف رائے کے کھلےاظہار اور اس کےاحترام کے بغیر فروغ نہیں پا سکتا۔

گجرات میں مودی کے 15 برس خاصے متنازع رہے ہیں۔ انھیں یہ پسند نہیں کہ کوئی ان سے چبھتے ہوئےسوالات کرے۔

میڈیا پر بھی ان کا خاصا دباؤ رہا ہے لیکن مودی کی شخصیت کا ایک زبردست مثبت پہلو ہے، وہ وقت کےساتھ اور عصری تقاضوں کےمطابق خود کو ڈھالنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ عوام نےان کے متنازع ماضی کی بنیاد پر نہیں بلکہ تبدیلی کے ان کےنعرے پر انھیں اقتدار میں بھیجا ہے۔

تاہم اگر مودی یہ سوچتے ہیں کہ تنقید، نکتہ چینیوں اور اختلاف سے بچنے کے لیے جوابدہی کے اداروں غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کو دبایا جا سکتا ہے تو یہ ان کی اب تک سب سے بڑی سیاسی غلطی ثابت ہوگی۔

اسی بارے میں