بھارت میں شیروں کی آبادی میں بھی اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایشیاٹک شیر کی تعداد میں گذشتہ پانچ سال میں 27 فی صد اضافہ ہوا ہے

بھارت میں ایشیاٹک شیروں کی تعداد میں گذشتہ پانچ برسوں میں زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سال کے اوائل میں بھارت میں ٹائیگر کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

ایشیاٹک شیر بھارتی ریاست گجرات کے گیر کے جنگلوں میں پائے جاتے ہیں۔

پانچ سال قبل جب ان کی تعداد کا شمار ہوا تھا تو ان کی تعداد 411 تھی لیکن پانچ سال بعد سنہ 2015 میں اس کی تعدا 523 پہنچ گئی ہے۔

آئي یو سی این کے مطابق سنہ 1974 میں شیروں کی تعداد 180 تھی اور اس کے بعد سے اس کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

گجرات کی وزیر اعلی آنندی بین پٹیل نے اتوار کو گجرات کے ساسن میں شیروں کی تعداد کا اعلان کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’گیر کے جنگل کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور گجرات کے فخر کے گھر کا تحفظ کیا جائے گا۔‘

Image caption بھارت کے برعکس افریقہ میں اس نسل کے شیروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے

اس شاہی جانور کی تعداد میں گذشتہ دنوں کمی ہوتی جار ہی تھی لیکن اس بار کے شمار میں اس کی تعداد میں ریکارڈ 27 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

شیروں کی تعداد کا شمار پانچ دنوں تک جاری رہا اور پانچ مئی کو ختم ہوا۔ اس میں 109 شیر، 201 شیرنیاں جبکہ 234 شیر کے بچے تھے۔

پہلے شیر کی یہ نسل پورے شمالی بھارت میں پائی جاتی تھی لیکن اب یہ صرف گجرات کے گیر جنگلوں میں پائی جاتی ہے جو سوراشٹر علاقے میں آٹھ اضلاع پر محیط ہے۔

شیروں کے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے وزیر اعلی آنندی بین نے کہا کہ 268 شیر جوناگڑھ ضلع، 44شیر سومناتھ ضلع میں، 174 امریلی ضلع میں جبکہ 47 شیر بھاونگر ضلع میں پائے گئے۔

اشیاٹک شیر کی نسل افریقہ میں بھی پائی جاتی ہے لیکن وہاں اس کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں