داؤد ابراہیم پاکستان میں ہیں، واپس لا کر رہیں گے: بھارت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption داؤد ابراہیم پر دوسرے کئی الزامات کے علاوہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سنہ 1993 میں ممبئی میں بم دھماکے کرنے کا الزام بھی ہے

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ انڈرورلڈ کے سرغنہ داؤد ابراہیم پاکستان میں ہی ہیں اور انھیں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے حکومت داؤد ابراہیم کو ہندوستان واپس لا کر رہے گی چاہے اس کے لیے پاکستان پر دباؤ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔

چند روز قبل خارجی امور کے وزیر مملکت ہری بھائی چودھری نے پارلیمان میں بیان دیا تھا کہ بھارتی حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ 1993 میں ہوئے ممبئی دھماکوں کے ملزم داؤد ابراہیم کہاں ہیں۔

اس پر حزب اختلاف نے حکومت پر زبردست نکتہ چینی کی اور وضاحت طلب کی تھی۔ کئی ارکان نے اس بارے میں حکومت سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پیر کو پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا میں اس معاملے پر بیان جاری کیا۔

انھوں نے کہا: ’ہم داؤد کو لا کر رہیں گے، بھلے کچھ ہو جائے۔ ہمیں اس بات کا پوار یقین ہے۔ اگر اس کے لیے پاکستان کےساتھ یہ مسئلہ اٹھانا پڑے، یا اس پر دباؤ ڈالنا پڑے تو ہم ایساکریں گے اور جب تک داؤد ابراہیم کو واپس نہیں لاتے اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔‘

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’داؤد ابراہیم کے تعلق سے پاکستان کو تمام متعلقہ دستاویزات سونپی جا چکی ہیں۔ لیکن وہ انھیں تلاش کرنے کا عمل شروع کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’بھارت کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے پختہ خفیہ معلومات ہیں کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں ہی ہیں۔‘

بھارتی پولیس کو طویل عرصے سے ممبئی کے مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم کی تلاش ہے۔ ان پر بابری مسجد کے انہدام کے بعد سنہ 1993 میں ممبئی میں بم دھماکے کرنے کا الزام ہے۔ ان دھماکوں میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور بہت سی قیمتی املاک کی تباہی کے ساتھ ہی درجنوں لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔

بھارت کا الزام ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں ہیں اور وہ پاکستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن پاکستان بھارتی دعووں کو بے بنیاد بتا کر انھیں مسترد کرتا رہا ہے۔

اسی بارے میں