قدامت پسند، صدر روحانی اور سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption چھوٹی سی عمر میں ہی کیانہ اور ان کے جڑواں بھائی علی اپنے گھر پر بہت ساری گرفتاریاں اور چھاپے دیکھ چکے ہیں

ایران میں سزائے موت کے خلاف ایک سرگرم کارکن کی قید اور موت کی سزاؤں میں تیزی سے اضافے نے ملک میں ایک بار پھر انسانی حقوق کی ناقص صورتحال کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

صدر حسن روحانی اور ان کی ٹیم عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے کے باوجود اپنے ملک میں اصلاحات میں ناکام کیوں رہی ہے؟

آٹھ سالہ کیانہ کہتی ہے: ’انھوں نے میری ممی کو پھر اوین جیل میں ڈال دیا ہے۔‘

چھوٹی سی عمر میں ہی کیانہ اور اس کا جڑواں بھائی علی اپنے گھر پر بہت ساری گرفتاریاں اور چھاپے دیکھ چکے ہیں۔

ان کی والدہ نرگس محمدی انسانی حقوق کی ایک معروف وکیل اور سرگرم کارکن ہیں، وہ گذشتہ پانچ برس میں اپنے کام کی وجہ سے متعدد بار جیل جاچکی ہیں۔

سنہ 2012 میں خراب صحت کے باعث نرگس محمدی کو ان کی سزا کے بقیہ چھ سال گھر میں گزارنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

لیکن گذشتہ ہفتے جب بچے سکول گئے ہوئے تھے، انٹیلی جنس حکام بغیر کسی اطلاع یا وضاحت کے انھیں دوبارہ جیل لے گئے۔

نرگس محمدی پر لگائے جانے والے الزامات میں ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ سزائے موت کے خلاف ایک ’غیر قانونی گروپ‘ چلا رہی تھیں۔

یہ مقدمہ ایک ایسے ملک میں لڑنا خاصا دشوار ہے جہاں چین کے بعد سزائے موت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

سنہ 2013 میں جب صدر حسن روحانی اقتدار میں آئے تھے تو یہ امید کی جارہی تھی کہ ان کا اعتدال پسندی کی طرف رجحان انسانی حقوق میں بھی بہتری کا سبب بنے گا۔

تاہم جب سے انھوں نے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے سزائے موت پر عمل درآمد کی تعداد میں دراصل اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption تقی رحمانی اب فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں

اوسلو میں مقیم ایک ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایران میں سنہ 2014 میں 735 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔

ایران ہیومن رائٹس کا اپریل میں کہنا تھا کہ انھوں نے صرف تین دنوں میں 43 قانونی قتلوں کی تصدیق کی ہے۔

اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق ناممکن ہے تاہم بیشتر انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق یہ تعداد قابل یقین ہے۔

ایران میں سزائے موت دیے جانے والے بیشتر مقدمات منشیات سے متعلق ہوتے ہیں اور ملک میں منشیات کے استعمال کے بارے میں پائے جانے والے رحجانات کی وجہ سے انھیں عوامی ہمدردی بہت کم حاصل ہوتی ہے۔

تاہم گذشتہ دو برسوں میں سزائے موت کے متعدد مشہور مقدمات سامنے آئے جن میں نوعمر بچے اور خواتین شامل تھیں، جس کے باعث عوام میں ہلچل پیدا ہوئی اور رحم کی درخواستیں کی گئیں۔

لیکن صدر روحانی نے تاحال سزائے موت پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وہ آئنی طور پر بہت کم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption صدر روحانی نے تاحال سزائے موت پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے

اگرچہ وہ ایران کے منتخب صدر ہیں لیکن ملک کے پیچیدہ حکومتی ڈھانچے کا مطلب ہے کہ انھیں عدلیہ پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ عدلیہ روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کو جوابدہ ہے۔

عدلیہ پر سخت گیر غالب ہیں اور انھیں شک ہے کہ صدر روحانی امریکہ جیسے اپنے پرانے حریفوں سے گفت و شنید کر رہے ہیں۔

صدر روحانی کو عالمی سطح پر جتنی زیادہ پذیرائی حاصل ہوگی انھیں اپنے ملک میں نظام کی تبدیلی میں سخت گیر طبقے کی جانب سے اتنی ہی مخالفت کا سامنا ہوگا۔

ایران کے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن تقی رحمانی کہتے ہیں: ’اس وقت سخت گیر عدلیہ اور روحانی کی اعتدال پسند انتظامیہ کے درمیان ایک اندرونی تنازع جاری ہے‘

’اور اس کی قمیت سرگرم کارکنوں کو چکانا پڑ رہی ہے۔‘

تقی رحمانی نرگس محمدی کے شوہر ہیں اور اپنی اہلیہ کی طرح ایرانی جیلوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے باعث وہ 14 سال جیل میں کاٹ چکے ہیں۔

نرگس محمد واحد سرگرم کارکن نہیں جن کا ذکر شہ سرخیوں میں کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایران میں سنہ 2014 میں 735 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا

حالیہ ہفتوں میں ایرانی حزب اختلاف کی سوشل میڈیا سائٹس پر نامور کارکنوں کے ساتھ روا رکھے گئے عدلیہ کے برتاؤ پر شدید تنقید کی گئی۔

60 سال سے زائد عمر کے احمد ہاشمی ایک معتبر سابق سرکاری ملازم ہیں جنھیں سنہ 2009 میں حزب اختلاف کے مظاہروں کی حمایت کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں انھیں اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کے جیل سے باہر آنے کی اجازت دی گئی تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ دراصل ان کے جنازے میں شرکت کے لیے جارہے ہیں۔

اسی دوران ایک نوجوان طالب علم ماجد توکلی کو ان کی سزا کے چوتھے سال کے اختتام پر رہا کیا گیا۔

تاہم گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ صرف تین دن گزارنے کے بعد انھیں دوبارہ جیل بلا لیا گیا تاکہ وہ اپنی بقیہ دو ہفتے کی سزا پوری کر سکیں۔

ایران میں آئندہ سال فروری میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، اعتدال پسندوں اور سخت گیروں کے درمیان شدت آنے کا اندیشہ ہے اور یہ خدشات بھی ہیں کہ اس دوران حزب اختلاف کے مزید سرگرم کارکنان اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

تقی رحمانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اہلیہ کی گرفتاری ایک تنبیہہ ہے۔

‘اُسےگرفتار کرنے سے وہ ہمیں چپ رہنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption نرگس محمدی انسانی حقوق کی وکیل اور سرگرم کارکن ہیں، وہ گذشتہ پانچ برس میں متعدد بار جیل جاچکی ہیں

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی مذاکرات کی جون میں ڈیڈلائن قریب آرہی ہے اور صدر روحانی کی تمام تر وجہ اس معاہدے کو کامیاب کرنے پر ہے۔

اس معاہدے کے لیے انھیں ملک کے روحانی پیشوا کی حمایت کی بھی ضرورت ہے۔ اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ وقت نہ ہی انسانی حقوق میں اصلاحات اور نہ ہی سزائے موت پر بات چیت کرنے کا ہے۔

تقی رحمانی کہتے ہیں جو کچھ بھی ہوا، وہ اور ان کی اہلیہ اپنی سیاسی سرگرمیاں ترک نہیں کریں گے۔

تاہم یہ واضح ہے کہ وہ اور ان کا خاندان اس کی بھاری قیمت چکارہا ہے۔

تقی رحمانی اب فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور گذشتہ تین برسوں میں اپنے بچوں سے صرف ایک بار مل سکے ہیں۔

نرگس محمدی کے دوبارہ جیل میں جانے سے اب کیانہ اور علی اپنی نانی کے پاس رہتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ایک بات مجھے بہت پریشان کرتی ہے کہ کسی دن میرے بچے ہم سے ہمارے یہ فیصلے لینے پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں