ڈان ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت کو مطلوب افراد میں ممبئی کے ڈان کہے جانے والے داؤد ابراہیم کا نام سر فہرست ہے

ہندوستان کی حکومت کو شاید ہی اتنی بے صبری سے کسی کا انتظار ہو جتنا داؤد ابراہیم کا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ داؤد ابراہیم سے محبت یا نفرت کرتی ہے، بس انھیں کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔

داؤد ابراہیم پہلے ممبئی کے ڈان تھے، کاروبار پھیلا تودبئی منتتقل ہوگئے۔ وہ بابری مسجد کی مسماری کے بعد ممبئی میں ہونے والے حملوں کے سلسلے میں پولیس کو مطلوب ہیں، پولیس انھیں پکڑنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے، لیکن جیسا بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان ہمیں اکثر یاد دلاتے رہتے ہیں، لگتا ہے کہ ڈان کو پکڑنا واقعی مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے! لیکن اس کی کچھ وجہ بھی ہے۔

داؤد ابراہیم کہاں ہیں حکومت ہند جانتی بھی ہے اور نھیں بھی۔ پہلے نائب وزیر داخلہ نے پارلیمان کو بتایا کہ حکومت کونہیں معلوم کہ داؤد کہاں ہیں لیکن انھیں پکڑنے کی کوششیں جاری ہیں، پھر ہنگامہ ہوا تو اب ان کے سینیئر وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کو پتہ ہے کہ داؤد پاکستان میں ہیں، ان کا پتہ حکومتِ پاکستان کو کئی مرتبہ بتایا گیا ہے، اور اب انھیں ڈھونڈنے، پکڑنے اور ہمارے سپرد کرنے کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption داؤد ابراہیم کو حکومت ہند کے حوالے کیے جانے کے متعلق عوام اور خواص دونوں حلقوں میں مطالبہ ہے

لیکن اگر کسی شخص کا نام پتہ معلوم نہ ہو تو اسے گرفتار کیسے کیا جائے۔ پاکستان میں بظاہر کسی کونہیں پتہ کہ وہ کہاں ہیں۔ اور یہاں کی حکومت کی بات پر وہاں کوئی آسانی سے بھروسہ کرتا بھی نہیں ہے۔ ان کے پاسپورٹ کے نمبر اور کراچی اور اسلام آباد میں ان کے گھر کے پتے یہاں کے اخبارات میں چھپ رہے ہیں لیکن ہندوستانی اخبارات پاکستان میں کوئی کیوں پڑھے گا؟

خیر کوشش پھر بھی کی گئی ہوگی لیکن بظاہر داؤد نہ کلفٹن میں ہیں جہاں بہت سےلوگ سمجتھے ہیں کہ وہ رہتے ہیں، نہ وہ کرکٹر جاوید میانداد کے گھر کبھی آتے جاتےدیکھے گئے ہیں، نہ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں کہ کوئی ایئر پورٹ پر انھیں روک لے نہ ان کا کوئی فون نمبر ہے جسے ٹریس کیا جاسکے۔

اب بس ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ یہ کہ داؤد ابراہیم جہاں بھی ہیں، پولیس کو مطلوب ہیں، اگر وہ یہ کالم پڑھ رہے ہوں تو براہ کرم ممبئی کی پولیس سے براہ راست رابطہ کریں کیونکہ ان کی گرفتاری کی کوئی اور صورت نظر نہیں آتی۔ ایک اچھے شہری کا یہ ہی فرض بنتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے مطابق داؤد ابراہیم پاکستان میں ہیں

آپ کو شاید یہ اپیل تھوڑی عجیب لگے لیکن آپ مانیں نہ مانیں، داؤد ابراہیم ایک مرتبہ خود اپنی خوشی سے خود سپردگی کی پیش کش کر چکے ہیں۔ یہ انکشاف خود دہلی پولیس کےسابق کمنشر نیرج کمار نے کیا تھا جو مممبئی کے بم دھماکوں کے بعد اس کیس کی تفتیش کر رہے تھے، اور ان کا دعوی ہے کہ انھوں نے دو مرتبہ ٹیلی فون پر داؤد ابراہیم سے بات بھی کی تھی۔

انٹرویو چھپنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ان کے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔

لیکن سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل رام جیٹھملانی بھی یہ کہہ چکے ہیں کے داؤد نے انھیں بھی فون کیا تھا۔

سی بی آئی کے ایک سابق جوائنٹ ڈائریکٹر شانتانو سین کا بھی کہنا ہے کہ داؤد ابراہیم اس وقت ہندوستان لوٹنے کے لیے تیار تھے، بس ان کی ایک چھوٹی سی شرط تھی کہ انھیں باقی سب مقدمات میں بری کر دیا جائے کیونکہ انھیں یقین تھا کہ بم دھماکوں کے کیس میں وہ خود کو بے قصور ثابت کرسکتے ہیں!

اب اگر اتنی چھوٹی سی شرط بھی نہ منوائی جاسکے تو ڈان ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے؟

اسی بارے میں