پولیس اہلکاروں میں تشدد اور خودکشی کا رجحان کیوں

ممبئی پولیس تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خود کشی کی وجوہات کام کا بوجھ ہے

ممبئی میں حال ہی میں ایک پولیس جوان کی جانب سے اپنے سینئر افسر کو گولی مارنے کے حالیہ واقع کے بعد ممبئی کے پولیس اہلکاروں میں خودکشی اور قتل کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش پائی جاتی ہے۔

ممبئی کے پولیس کمشنر راکیش ماریا نے تمام پولیس اہلکاروں اور افسران کی دماغی صحت کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔

اگرچہ کام کے دباؤ کی وجہ سے پولیس جوانوں اور افسروں کی خودكشي کی واردات مہاراشٹر کے مختلف شہروں میں کم ہو چکی ہے، پر کسی جونیئر افسر کا اپنے سینئر کو گولی مارنے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔

نیشنل کرائم ریكارڈز بیورو کے مطابق، ملک میں پولیس اہلکار اور افسران کی خودکشی کے واقعات میں ریاست مہاراشٹر پہلے مقام پر ہے۔

سال 2013 میں ملک بھر میں کل 222 پولیس اہلکاروں اور افسران نے خود کشی کی تھی اس میں 40 کا تعلق مہاراشٹر پولیس سے تھا۔

واكولا پولیس تھانے کے سینئر افسر کو گولی مارنے کے واقع کے بعد ممبئی سے ملحقہ تھانے میں تعینات دو حوالدارو نے کھل کر اپنے سینئر افسران کے خلاف میڈیا سے بات کی اور خود کشی کرنے کی دھمکی دے دی۔

ان حوالداروں نے تو میڈیا کے سامنے سینئر اہلکاروں کی مبینہ بدعنوانیوں کی فہرست ہی پڑھ ڈالی.

گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے پولیس ہسپتال سے منسلک نفسیات کے ڈاکٹر نند كٹارا کا خیال ہے کہ ہر پولیس اہلکار اور افسر کا سال میں کم سے کم ایک بار ذہنی معائنہ ضرور ہونا چاہئے۔

بی بی سی سے کے ساتھ گفتگو میں ڈاکٹر كٹارا نے کہا کہ : ’پولیس محکمے میں کئی ملازمین اور افسران ایسے ہیں جو مہینوں تک اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں۔ کئی بار گھر کے تہوار کے دوران انہیں ڈیوٹی پر لگایا جاتا ہے ایسے میں قدرتی طور پر ان پر ذہنی دباؤ بڑھتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کے پولیس محکمے میں ذہنی طور پر بیمار جتنے لوگوں کی تعداد بتائی جاتی ہے، اصل میں یہ تعداد اتنی نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اضافی کام کا بوجھ، کام کی طویل مدت ہر ایک کا مسئلہ ہے

ڈاکٹر كٹارا کے مطابق خود کشی کی وجوہات کام کا بوجھ ہے۔ ڈاکٹر كٹارا کا کہنا ہے کہ محکمۂ پولیس کا سب سے بڑا مسئلہ انسانی وسائل کی کمی ہے۔

ملازمین اور افسران کی انتہائی کمی کے نتیجے میں، ملازمین اور افسران ہر وقت دباؤ میں رہتے ہیں اضافی کام کا بوجھ، کام کی طویل مدت ہر ایک کا مسئلہ ہے۔

لمبی ڈیوٹی کی وجہ سے کئی بار پولیس اہلکار اور افسران دو تین دن تک گھر نہیں جا پاتے خاص کر تہواروں پر پولیس محکمہ پر کام کا بوجھ زیادہ رہتا ہے. دیوالی اور گنپتی فیسٹیول جیسے تہوار میں گھر سے دور رہنا ذہنی تناؤ کا سبب ہوتا ہے۔

ذہنی توانائی کی کمی: پولیس محکمہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو زیادہ ذہنی دباؤ سہنے کی طاقت نہیں رکھتےاس وجہ سے ان کے کام کاج پر برا اثر پڑتا ہے اور سینیئر کے ساتھ تکرار ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں کوئی ملازم یا افسر منفی ذہنیت کی وجہ سے خود کشی کر سکتا ہے۔

شراب پینے کی عادت:

اضافی تناؤ کے سبب کئی پولیس اہلکار اور افسر شراب پینے لگتے ہیں، جو منفی ذہنیت کو فروغ دینے کی بڑی وجہ ہے۔

اسلحہ کی موجودگی: پولیس جوانوں اور افسروں کو اسلحہ آسانی سے مل جاتا ہے منفی ذہنیت کی صورت میں خودكشي یا قتل جیسے سنگین جرائم میں ان ہتھیاروں کا استعمال ہونے کا پورا امکان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر كٹارا کہتے ہیں’ آج ہر کاروبار میں ذہنی دباؤ ہے اور پولیس محکمہ بھی اس سے اچھوتا نہیں رہ سکتا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تہواروں کے دوران پولیس کی ذمہ داری میں اضافہ ہو جاتا ہے

وہ کہتے ہیں، ’اس دباؤ کو سہنے اور اس سے نمٹنے کی ہر ایک کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے پولیس محکمے میں زیادہ تر ملازمین اور افسران اس کشیدگی کو برداشت کر سکتے ہیں اوربہت لوگ ایسے ہیں، جو منفی ذہنیت کے شکار ہوتے ہیں‘۔

ڈاکٹر كٹارا کا خیال ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے پولیس بھرتی کے وقت اگر امیدواروں کی شخصیت میں اس طرح کی علامات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

ہر پولیس تھانے کے سینیئر حکام کو اپنے ماتحت ملازمین پر نظر رکھنے کو کہا جا سکتا ہے۔

اس سے کسی طرح کے ذہنی دباؤ یا رویے میں تبدیلی کا پتہ لگایا جا سکتا ہے انھوں نے کہا کہ سال میں کم سے کم ایک بار پولیس جوانوں اور افسروں کا جسمانی اور ذہنی تجربہ کیا جانا چاہئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو اس طرح کے واقعات پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں