کابل ایئرپورٹ کے قریب زوردار دھماکہ، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس دھماکے میں ہلاکتوں میں خدشے کا اضافہ ظاہر کیا جا رہا ہے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کے مطابق کابل ہوائی اڈے کے مرکزی راستے کے قریب ایک دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم 18 زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق یہ خود کش حملہ کابل کے ہوائی اڈکے کے قریب ایک مرکزی راستے جہاں فوجی گاڑیوں کی آمدو رفت ہوتی ہے پر ہوا۔

اس حملے میں دو نوجوان افغان لڑکیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کابل پولیس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں آٹھ خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان عبداللہ کریم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک خود کش حملہ آور نے اپنی ٹویٹا سڈان کار کو کابل ایئر پورٹ کے قریب صبح نو بجے کےقریب دھماکے سے اڑا دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور کا ہدف غیر ملکی افواج کا قافلہ تھا۔

ایک عینی شاہد نے اسے خودکش کار بم حملہ بتایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس میں ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے صحافیوں کو بتایا ’اس حملے میں تین گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں جن میں ایک غیرملکی فوجیوں کی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زخمیوں میں آٹھ خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں

نیٹو افواج نے ابھی اپنی کسی گاڑی کی تباہی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ابھی کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم طالبان نے حالیہ دنوں اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نمائندے ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ یہ حملہ طالبان اور حکومت کے نمائندوں پر مبنی مذاکراتی ٹیم کے درمیان ہونے والی امن بات چیت کی کوششوں کے پہلے دور کے بعد ہوا ہے۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کے درمیان طالبان کے بعض عناصر ان حملوں کے ذریعے دباؤ بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔

تین دل پہلے کابل میں ہی ایک گیسٹ ہاؤس پر حملے میں چار بھارتیوں سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں پانچ لوگ دیگر ممالک کے شہری تھے۔

اسی بارے میں