انڈیا میں کروڑ سے زیادہ گھر غیر آباد کیوں ہیں؟

گڑگاؤں تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ گھر خالی پڑے ہیں

اگر آپ انڈیا کے دارالحکومت دلی کے مضافات سے گزر رہے ہیں تو آپ کو میلوں تک نئے گھر نظر آئیں گے لیکن ان میں رہتا کوئی نہیں ہے۔

حقیقت میں پراپرٹی کنسلٹنسی فرم سی بی آر ای ساؤتھ ایشیا کے چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر انشومن میگزین نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ انڈیا میں مختلف مقامات پر تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ گھر خالی پڑے ہیں۔

اسی طرح کا نظریہ اکھلیش ٹلوٹیا کا بھی جنھوں نے اپنی کتاب ’دی میکنگ آف انڈیا۔گیم چینجنگ ٹرانسیشن‘ میں لکھا ہے کہ انڈیا کے پاس اس میں بسنے والے گھرانوں یا خاندانوں سے زیادہ گھر ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ انڈیا کے گھرانے 2001 سے 2011 کے درمیان 187 ملین سے 247 ملین بڑھے ہیں جو کہ 60 ملین یعنی چھ کروڑ کا اضافہ ہے۔ اسی عرصے میں گھروں کی تعداد 250 ملین سے بڑھ کر 331 ملین ہو گئی یعنی ان میں 81 ملین کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح انڈیا کے شہری علاقوں میں 24 ملین گھرانوں کے لیے 38 ملین نئے گھر تھے۔

اس کے باوجود انڈیا میں رہنے کے لیے گھروں کی بہت قلت ہے۔ تازہ اکنامک سروے کے مطابق انڈیا میں تقریباً 20 ملین گھروں کی کمی ہے۔

سو کیا ہو رہا ہے؟

کالا دھن

ان میں سے کئی گھر ان افراد کے ہیں جن کے پاس ’اضافی‘ پیسہ تھا اور انھوں نے اس سے گھر خریدے۔

اس میں سے کافی حد تک (یہ نہیں معلوم کہ کتنا) کالا دھن ہے جس پر ٹیکس نہیں دیا گیا۔ اس لیے گھر تو خریدے گئے لیکن ان میں کوئی آباد نہیں ہے۔

اس کے علاوہ انڈیا میں اکثر بلڈر صرف خوشحال لوگوں کے لیے ہی گھر بناتے ہیں اور گھروں کی قیمتیں ان میں سے بھی بہت سوں کی پہنچ سے دور ہیں۔

لیکن گھروں کی قلت صرف کم آمدنی والے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ممبئی میں اوسطاً ایک گھر کی قیمت 200,000 ڈالر ہے۔

اکھلیش ٹلوٹیا کے اندازے کے مطابق جو لوگ پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کے گھر مانگتے ہیں بلڈرز عموماً ان کے مطالبات کی طرف کان ہی نہیں دھرتے۔

ریئل ایسٹیٹ ریٹنگ اور ریسرچ کی فرم لیاسز فوراز کے مطابق مارچ تک ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں گھروں کی اوسط قیمت 13 ملین روپے یعنی ایک کروڑ 30 لاکھ تھی۔

بنگلور اور دلی میں گھر کی اوسط قیمت 86 لاکھ روپے اور 74 لاکھ روپے ہے۔

ان قیمتوں کو دیکھ کر تو اس بات پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ ایک بڑی آبادی کا گھروں کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔

کچی آبادیاں

اور یہ بھی حیران کن بات نہیں ہونی چاہیے کہ سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق انڈیا کے 13 کروڑ 70 لاکھ گھرانے شہر کی کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔

ان آبادیوں میں رہنے والے لوگوں کی تعداد چھ کروڑ پچاس لاکھ ہے جو کہ ملک کی کل شہری آْبادی کا 17.4 فیصد بنتا ہے۔

کچھ اندازے انڈین شہروں میں کچی آبادیوں کو اس سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انڈیا میں تقریباً 65 ملین لوگ کچی آْبادیوں میں رہتے ہیں

2012 کی ایک رپورٹ میں ممبئی میں ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے ڈائریکٹر ایس پاراسرامن کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ’ممبئی کی تقریباً 60 فیصد کچی آبادیوں کے لوگ 8 فیصد زمین پر رہتے ہیں۔‘

سو اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟

حکومت کو چاہیے کہ وہ بلا تاخیر اس کے متعلق کچھ کرے۔

ٹلوٹیا کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ حکومت جنوبی کوریا سے کچھ سیکھ سکتی ہو جس نے 1980 میں 2 ملین نئے گھر بنائے تھے جن میں سے 0.9 فیصد دارالحکومت سیول کے گرد بنائے گئے تھے۔

اس کے لیے حکومت کو سب سے پہلے ملک میں زمین حاصل کرنے کے مسئلے کی طرف توجہ دینا ہو گی اور اسے حل کرنا ہو گا۔

اس کے علاوہ ان گھروں کو شہروں کے قریب تعمیر کرنا ہو گا، اور اس کے لیے اچھی ٹرانسپورٹ مہیا کرنا ہو گی تاکہ لوگ کام پر آ جا سکیں۔

اگر یہ سب کچھ نہ کیا گیا تو مزید مصیبت کھڑی ہو جائے گی اور آنے والے برسوں میں انڈیا کی زیادہ سے زیادہ آبادی شہروں کا رخ کر لے گی۔

اکنامک سروے کے مطابق ’ملک کی تقریباً 30 فیصد آبادی شہروں اور شہری علاقوں میں رہتی ہے اور 2030 تک یہ تعداد 50 فیصد تک ہو جائے گی۔‘

اس کا مطلب ہے کہ اگر سستے گھر نہ بنائے گئے تو انڈیا میں کچی آبادیاں بڑھتی جائیں گی۔ اور یہ کوئی خوش کن خیال نہیں ہے۔

اسی بارے میں