انسانیت کے ادارے ٹوٹ رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عراق میں دولتِ اسلامیہ کی خوف سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں

1990 کے عشرے میں سابق یوگوسلاویہ میں خانہ جنگی کے دوران بوسنیا کے دارالحکومت سیرایوو پر سرب فوج کا قبضہ تھا۔

سرب پوزیشن پر امریکہ کی زبردست بمباری کے بعد جب بوسنیا میں اقوام متحدہ کی امن قوج داخل ہوئی تو وہاں موجود سرب جنرل نے پوری شدت کےساتھ اقوام متحدہ کی فوج کے جنرل کو روکنے کی کوشش کی۔

سرب جنرل نے کہا کہ وہ یوگوسلاویہ کی فوج کا کمانڈر ہے اور صرف اسے اختیار حاصل ہے کہ کون اس خطے میں داخل ہو اور کون نہیں۔

جب اس نے اقوام متحدہ کے کمانڈر سے پوچھا کہ آپ کس کے حکم سے یہاں آئے ہیں تو کمانڈر نے جواب دیا کہ ہم یہاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حکم سے آئے ہیں اور ہمیں یہاں کوئی نہیں روک سکتا۔

سرب کمانڈر کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اقوام متحدہ کی فوج کی موجودگی سے ہزاروں انسانوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور آنے والے برسوں میں کوریشیا، بوسنیا ہرزوگوینا اور کوسوو جیسے نئے ممالک اقوام متحدہ کی نگرانی میں وجود میں آئے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نائجیریا میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام قتل و غارت گری میں مصروف ہے

اقوام متحدہ اب بھی افریقہ کے بعض شورش زدہ علاقون میں موثرکردار ادا کر رہی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دنیاکے ممالک کا یہ سب سےبڑا ادارہ کمزور پڑ چکا ہے ۔ ایک وقت تھا کا کسی بھی اہم بین الاقوامی معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی طلب کی جاتی تھی۔

بڑے بڑے رہنما اس کے بحث ومباحثے میں میں حصہ لیا کرتے تھے اور اس کی قراردادیں اہمیت کی حامل ہوتی تھیں۔ اقوام متحدہ کی رٹ اب ٹوٹ چکی ہے ۔ یہ عالمی ادارہ بھی اب عراق کی حکومت کی طرح ہے بے اثر ہو چکا ہے ۔

آج ہزاروں بوڑھے بچے عورتیں بے سہارگی کےعالم میں رمادی اور پالمیرا کے خونخوار حملہ آوروں کے مظالم سے بچنےکے لیے ہر طرف بھاگ رہے ہیں اور ان کی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے ۔کوئی قرارداد نہیں ہے کوئی فوج نہیں۔ پاکستان سے لےکر افغانستان، یمن اور سعودی عرب تک ہر جگہ قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے۔ سلامتی کونسل میں اب کوئی بحث نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برما میں 12 لاکھ مسلمان نسل کشی کی صورتحال سے دوچار ہیں

برما میں 12 لاکھ مسلمان نسل کشی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ مسلمانوں کے علاقوں کو الگ تھلگ کر دیاگیا ہے۔ ان کو اقتصادی طور پر محروم کیا جا رہا ہے۔ زمین شہریت اور قومیت کےحق سے وہ محروم ہیں۔ اس وقت وہ اپنے ہی خطے میں اپنی زمین پر یرغمال بنے ہوئے ہیں اور جو بچ کر بھاگ رہے ہیں انھیں کھلے سمندر میں خوفناک موت کا سامنا ہے۔

دو چار رسمی بیانات کے علاوہ پوری دنیا بےمروتی کےساتھ جبر وظلم کا یہ تماشہ کئی برس سے دیکھ رہی ہے۔

یہاں جنوبی ایشیا میں بھارت اور بنگلہ دیش نے لاکھوں لوگوں کو درجنوں نام نہاد ہند بنگلہ انکلیوز میں 40 سال سےزیادہ عرصے سے قید میں رکھا ہوا ہے۔

انھیں ان علاقوں سے نکلنے کی آزادی نہیں ہے۔ انھیں بجلی پینے کا پانی اور ادویات تک سے محروم رکھا گیا۔ ان خطوں کے باشندوں کے ساتھ دونوں ملکوں نے جو رویہ اختیار کیا ہے ان سےاقوام متحدہ کے حقوق انسانی چارٹر کے ہر پہلو کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ لیکن ان غریب انسانوں کے لیے کبھی کوئی کوئی آواز نہیں اٹھتی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ ایک موثر عالمی ادارہ تھا جس نے ملکوں کےتنازعات اور انسانی معاملوں میں اہم کردار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لیبیا میں بھی دہشت گرد گروہ طاقت پکڑ رہے ہیں

لیکن سرد جنگ کے خاتمے کےبعد دنیا میں جو نظام وجود میں آ رہا ہے اس میں نہ صرف یہ کہ امریکہ کا اثر و رسوخ رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے بلکہ اقوام متحدہ کا کردار بھی عالمی معاملات میں محدود ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صومالیہ، نائجیریا، شام اور عراق کے بعض خطوں پر سیاسی جماعتوں کا نہیں قاتل گروہوں کا قبضہ ہو رہا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب آنے والے دنوں میں دنیا کے بعض خطوں میں زبردست ٹکراؤ اور خونریزی کا اندیشہ ہے، اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کا کمزور ہونا انسانی نسل کے لیے ایک تاریک پہلو ہے۔

اقوام متحدہ کے کمزور ہونے کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا میں انسانی ہمدردی کےجذبات بھی اب کمزور پڑنے لگے ہیں اور انسانی قدریں شکست کھانے لگی ہیں۔

اسی بارے میں