’پیسے کا درخت خطرے میں ہے‘

Image caption ایک سلفی کے درخت سے سال میں 20 سے 25 ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے بستر میں قبائلیوں کے لیے سلفی کا درخت حقیقی طور پر ایک پیسے کا پیڑ ہے۔

اس درخت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بستر کے قبائلی سلفی کا درخت، اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیتے رہے ہیں۔

تاڑ اور کھجور کی نسل کا یہ پیڑ جسے ’كاريوٹا يورنس‘ یعنی سلفی کہا جاتا ہے اس سے ایک قسم کا مشروب کشید کیا جاتا ہے جسے چھتیس گڑھ میں ’بستر بیئر' کہا جاتا ہے۔

لیکن اب بستر میں سلفی کے درخت سوکھتے جا رہے ہیں۔

ریاستی دارالحکومت رائے پور سے آلوک پرکاش پتل بتاتے ہیں کہ چھتیس گڑھ کی حکومت نے کبھی سلفی کو کاجو سے تیار ہونے والی پھینی (تاڑی یا ایک قسم کا رس) کی طرز پر فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی تو کبھی اس سے ٹافی بنانے کی بات کہی لیکن ان منصوبوں پر عمل درآمد تو دور کی بات ہے فی الحال یوں محسوس ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ حکومت سلفی کے درختوں کو بچانے کے متعلق بھی لاپرواہ نظر آتی ہے۔

Image caption سلپھی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے قبائلی اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں

ریاست کے وزیرِ آب کاری امر اگروال کہتے ہیں: ’سلفی قبائلی معاشرے کی روایت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کی لاحق بیماری پر تحقیق جاری ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے نمٹنے میں بھی ہم کامیاب ہوں گے۔‘

قبائلی عام طور پر صحن اور کھیتوں کی مینڈھوں پر سلفی کے درخت لگاتے ہیں۔ 40 فٹ بلند یہ درخت نو دس سال کا ہونے کے بعد رس دینے لگتا ہے۔ مقامی بازار میں سلفی کا رس 40 سے 50 روپے لیٹر فروخت ہوتا ہے۔

جگدل پور سے ملحق علاقے بكاونڈ کے پرہلاد کہتے ہیں: ’آپ اگر صبح کو سلپھی پیئيں تو آپ شکم سیر ہوجاتے ہیں لیکن جیسے جیسے دن چڑھتا ہے، سلفی کے رس میں خمیر اٹھنے لگتی ہے اس کے بعد جب آپ پیئیں تو نشہ آنے لگتا ہے۔‘

بعض قبائلی سلفی کے رس سے گڑ بھی بناتے ہیں۔

Image caption تاڑ اور کھجور کی طرح ہی اس سے نکلنے والے رس سے دیسی شراب تیار ہوتی ہے

ستلاونڈ گاؤں کے پاس سلپھی پیتے ہوئے راما كواسي کہتے ہیں: ’ایک درخت سے ایک موسم میں 20 سے 25 ہزار روپے کی کمائی ہو جاتی ہے۔ اگر 10 درخت ہیں تو سمجھو ڈھائی تین لاکھ روپے تو ملنے ہی ملنے ہیں۔‘

لیکن یہ سب بتاتے ہوئے وہ قدرے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے تین سلپھی کے درخت گذشتہ ایک سال میں سوکھ گئے۔ وہ کہتے ہیں کا ان کی ’زندگی میں اب کچھ نہیں بچا۔‘

بستر زرعی یونیورسٹی کے سائنسدان راجارام بھنور گذشتہ کئی برسوں سے سلفي کے درختوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’آکسی سپورم‘ نامی پھپھوند کی وجہ سلپھي کے درخت سوکھ رہے ہیں۔

راجارام بھنور کہتے ہیں: ’یہ پھپھوند درخت کی ان جڑوں کو متاثر کرتے ہیں جو درخت کو کھانا پانی پہنچاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مٹی کی وجہ سے ہونے والی اس بیماری کا علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں