نیپال: دریا میں تودہ گرنے سے سیلاب کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہاں جمع پانی رکاوٹ توڑ کر بہہ نکلا تو اس سے وسیع علاقے میں سیلاب کا خطرہ ہے

نیپال کے مغربی علاقے میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک دریا کا بہاؤ رک گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

دارالحکومت کھٹمنڈو سے 140 کلومیٹر شمال مغرب میں میاگدی ضلعے میں کالی گنڈکی دریا میں مٹی کے تودے گرنے سے ایک گہری جھیل بن گئی ہے۔

ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں جبکہ فوج کو علاقے میں امداد فراہم کرنے کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں 25 اپریل کو نیپال میں 8۔7 اعشاریہ شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

اس زلزلے میں آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ کہ اس سے کہیں زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے بعد 12 مئی کو 3-7 شدت کے زلزے کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dhruba Sagar Sharma
Image caption ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں نصف شب کے وقت مٹی کے تودے گرنے سے دریا کا بہاؤ رک گیا اور پانی کی سطح 200 میٹر بلند ہو گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار لکشمی پرساد ڈھکل نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا: ’ہم نے دریا کے کنارے آباد گاؤں کے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل ہو جانے کے لیے کہا ہے۔‘

حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اس علاقے میں موجود نیپال کے ایک بڑے پن بجلی پلانٹ کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔

فوج کے ہیلی کاپٹر وہاں پرواز کر رہے ہیں اور فوجیوں کو وہاں اتارا جا رہا ہے تاکہ وہ اس تیزی سے پھیلتی جھیل میں سوراخ کر کے پانی کے بہاؤ کا راستہ بنائیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہاں جمع پانی رکاوٹ توڑ کر بہہ نکلا تو اس سے وسیع علاقے میں سیلاب کا خطرہ ہے۔

خیال رہے کہ یہ کالی گنڈکی دریا نیپال سے گذر کر بھارت آتا ہے اور پھر دریائے گنگا میں مل جاتا ہے۔

اسی بارے میں