بھارت میں شدید گرمی سے 500 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الہ آباد میں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا

بھارت میں سخت گرمی کی لہر سے 500 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جب کہ کچھ علاقوں میں درجۂ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی ریاستوں تلنگانہ اور آندھر پردیش میں ہوئیں جہاں ہفتے کے روز سے لے کر اب تک 140 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اترپردیش کے شہر الہ آباد میں درجۂ حرارت 48 رہا جبکہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پارہ 44 ڈگری کو پار کر گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کولکتہ میں ایئر کنڈیشنر کے بغیر ٹیکسیاں دن میں پانچ گھنٹے نہیں چلیں گی

حکام نے زور دیا ہے کہ لوگ گھروں کے اندر رہیں اور کافی مقدار میں پانی پییں۔

گرمی کی لہر نے وسط اپریل سے بھارت کی دو سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ تاہم زیادہ تر ہلاکتیں گذشتہ ہفتے پیش آئیں۔

خبررساں ادارے پریس آف انڈیا کے مطابق گرمی کی لہر نے تلنگانہ کے دس اضلاع میں 186 افراد کو نشانہ بنایا ہے اور سنیچر سے اب تک 58 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر ہمسایہ ریاست آندھر پردیش میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 182 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 87 ہفتے کے روز کے بعد مارے گئے۔

سینیئر سرکاری اہلکار بی آر مہرانے دا انڈین ایکسپریس اخبار کو ایک بیان میں کہا کہ ’تقریباً تمام متاثرین بوڑھے تھے، جن کی اکثریت گرمی میں کام کر رہی تھی۔ موت کی وجہ پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن اور گرمی سے دل کا دورہ یا ہیٹ سٹروک تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام نے تلقین کی ہے کہ لوگ گھروں کے اندر رہیں اور زیادہ مقدار میں پانی پیتے رہیں

محکمۂ موسمیات کے مطابق خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سخت گرمی کی صورت حال جاری رہے گی۔ ایک اہلکار نے کہا کہ اگلے چار دنوں میں دہلی کو اس موسم سے کسی قسم کا چھٹکارا نہیں ملے گا۔

اطلاعات کے مطابق مشرقی ریاست مشرقی بنگال میں بھی کم از کم دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گرمی سے دو ڈرائیوروں کے ہلاک ہونے کے واقعات کے بعد کولکتہ میں ائیر کنڈیشننگ کے بغیر ٹیکسیوں کو دن میں پانچ گھنٹوں کے لیے سڑک پر چلنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے حکام کے مطابق سخت گرمی کی لہر کی وجہ بارش کی کمی ہے۔

اسی بارے میں