بھارتی کشمیر میں مواصلاتی کمپنی کے دفتر پر حملہ، ایک ہلاک تین زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز پوسٹر غیرمعروف گروپ لشکر اسلام کے ہیں جن میں تمام ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ قصبے میں اپنی سرگرمیاں فوری طور بند کردیں

بھارت کے زیر انتظام شمالی کشمیر کے علاقے سوپور ایک مواصلاتی کمپنی کے دفتر پر میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں ایک شحض ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے ہیں۔

پیر کی صبح بھارت سنچار نگم لمیٹڈ یا بی ایس این ایل کی ایک فرینچائزڈ دکان میں نامعلوم اسلحہ بردار داخل ہوئے اور وہاں موجود تین نوجوانوں پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی، جس سے تینوں نوجوان شدید زخمی ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

واضح رہے بی ایس این ایل بھارتی حکومت کی نگرانی میں کام کرنے والی سرکاری ٹیلی کام ادارہ ہے۔

زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ پشت میں گولی لگنے سے ہندوارہ کے رہائشی نوجوان محمد رفیق ہلاک ہو گئے۔

شمالی قصبے سوپور کے غلام محمد بٹ اور امتیاز لون بھی زخمی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق غلام محمد کے سینے میں گولی لگی ہے جبکہ امتیاز کی ٹانگ شدید زخمی ہے۔

تاہم پولیس نے ابھی کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

قصبے میں کئی روز سے ٹیلی کام کمپنیوں کے بارے میں پراسرار دھکمیوں کے پوسٹر بھی نمودار ہو رہے تھے۔ پولیس کے مطابق اتوار کی شب سوپور میں ہی ایک موبائل فون ٹاور پر دو دستی بم پھینکے گئے، تاہم ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز پوسٹر غیرمعروف گروپ لشکر اسلام کے ہیں جن میں تمام ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ قصبے میں اپنی سرگرمیاں فوری طور بند کر دیں۔

اس واقعے سے کشمیر میں سرگرم تمام ٹیلی کام کمپنیوں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2003 تک موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ گذشتہ 12 سال میں ایئرٹیل، ایئر سیل، ریلائنس، ووڈا فون اور دیگر کمپنیوں نے ایک کروڑ 25 لاکھ آبادی والے جموں کشمیر میں موبائل فون کے ٹاوروں کا جال بچھا دیا ہے۔

مواصلاتی کمپنی ایئر ٹیل کے سب سے زیادہ یعنی چھ لاکھ صارفین ہیں۔

ٹیلی کام کمپنیوں کے نشریاتی مشیر یاسر عرفات کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ تنازع محض سوپور تک محدود ہے یا واقعی پورے کشمیر میں سرگرم کمپنیوں کو خطرہ ہے۔ لیکن اس واقعے نے بہرحال کمپنیوں کے معمول کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔‘

اسی بارے میں