بھارتی سپریم کورٹ: پھانسی کی سزا پوشیدہ طور پر نہیں دی جاسکتی

پھانسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عدالت نے یہ بیان اترپردیش میں ایک معاملے کی سماعت کے دوران دیا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو جلد بازی، پوشیدہ طور پر یا من مانے طریقے سے پھانسی نہیں دی جاسکتی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد کسی بھی شخص کا باوقار جینے کا حق ختم نہیں ہوجاتا ہے۔

عدالت نے یہ بیان اترپردیش سے تعلق رکھنے والی خاتون شبنم اور سلیم نامی شخص کو ان کے خاندان کے سات لوگوں کے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا ہونے کے بعد سزا دینے سے متعلق وارنٹ رد کرتے ہوئے کہی۔

شبنم اور سلیم کے وکیل آنند گروور اور راجو رام چندرن نے سپریم کورٹ میں اس وارنٹ کو خارج کرنے سے متعلق درخواست دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذیلی عدالت نے پھانسی کی سزا کے لیے آلہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اترپردیش کےشہر امروہہ کی عدالت نے 15 مئی کو پھانسی کا فیصلہ سنایا اور محض چھ دن بعد یعنی 21 مئی کو پھانسی دیئے جانے کا وارنٹ جاری کردیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ یہ وارنٹ بے حد جلد بازی میں جاری کیا گیا کیونکہ مجرموں کو اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت ہوتا ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ شبنم اور سلیم سبھی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی اگر قانونی لڑائی ہار بھی جاتے ہیں تو اترپردیش کے گورنر اور اور صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کرسکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افضل گرو کو دو برس قبل ایک صبح اچانک پھانسی دے دی گئی تھی

عدالت نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور آلہ آباد کے کئی ایسے فیصلے جن میں مجرموں کی عزت اور وقار کو قائم رکھنے سے متعلق بعض رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں جن کا عدالتوں کو خیال رکھنا لازمی ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے آئین کی دفعہ 21 کے تحت ہر شہری کو جینے کا جو حق ملا ہے وہ پھانسی کی سزا ملتے ہی ختم نہیں ہوتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پھانسی کی سزا یافتہ لوگوں کو بھی عزت سے جینے کا حق ہے۔

عدالت کی جانب سے دی گئی گائڈلائنس کے مطابق پھانسی کی سزا یافتہ لوگوں کو اپنے خاندان والوں سے ملنے کا حق ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ پھانسی اس طرح سے دی جائے کا کم سے کم تکلیف ہو۔

عدالت کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ بھارت میں گزشتہ چند برسوں میں پارلیمان کے حملے کے مجرم افضل گرو اور ممبئی حملوں کے مجرم اجمل قصاب کو اچانک پھانسیاں دے دی گئی تھی جن کے بارے میں پہلے سے کسی کو خبر نہیں دی گئی تھی۔

افضل گرو کی پھانسی پر کشمیر میں زبردست احتجاج ہوئے تھے جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا تھا کہ کم از کم افضل گرو کے خاندان والوں کو تو ان کی پھانسی کی اطلاع دینی چاہیے تھی۔

حکومت کا کہنا تھا کہ اس نے افضل گرو کے خاندان والوں کو اطلاع بھیجی تھی جبکہ افضل گرو کے خاندان والوں کا کہنا تھا کہ انہیں ایک نجی چینل سے یہ اطلاع ملی تھی۔

اسی بارے میں