ایران: طلاقیں کم کرنے کے لیے سرکاری ڈیٹنگ ویب سائٹ

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption ایرانیوں میں تقریباً 22 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں

ایران کی نوجوان آبادی میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح سے پریشان ہو کر حکام نے ڈیٹنگ کی ایک سرکاری ویب سائٹ متعارف کروائی ہے۔

ایرانیوں میں تقریباً 22 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں اور دارالحکومت تہران میں اس کی شرح اور بھی زیادہ ہے۔

طلاقیں زیادہ تر 30 سال کی عمر سے کم جوڑوں میں ہوتی ہیں، جن کی شرح ایران کی آبادی میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار حکام کو پریشان کر رہے ہیں۔

کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کے نائب وزیر محمود گلریزی نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس نئی ویب سائٹ سے ’ایک لاکھ‘ شادیاں ہو سکیں گی اور ’نوجوانوں کے درمیان شادی کے مسائل ٹھیک ہو سکیں گے۔‘

شاید یہ ایک جرات مند دعویٰ ہے لیکن اسے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس رجحان کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

نئی ویب سائٹ کا نام ’ہمسن تبیان نیٹ‘ ہے اور اسے ملک کے رہبر اعلیٰ کی نگرانی میں ایک تنظیم ’اسلامک ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن‘ چلا رہی ہے جو اسلامی طرز زندگی کو فروغ دیتی ہے۔

ہمسن تبیان نیٹ پر تقریباً 100 لوگ کام کر رہے ہیں۔ ابھی یہ صرف تہران میں دستیاب ہے لیکن اسے دیگر شہروں میں بھی لے کر آنے کی امید ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ hamsan.tebyan.net
Image caption صارفین سے ان کے والدین کی ازدواجی حیثیت اور کام کے بارے میں پوچھا جاتا ہے

محبت کی تلاش میں صارفین سے ان کی بنیادی تفصیلات پوچھی جاتی ہے جیسے کہ ان کا قد اور وزن۔ لیکن ساتھ میں ان کے والدین کی ازدواجی حیثیت اور کام کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے۔

ان کے مشغلے، پسندیدہ موسیقی اور فلموں کے بارے میں روایتی سوالات نہیں پوچھے جاتے۔

روایتی ڈیٹنگ سائٹس کے برعکس امیدوار ایک دوسرے کی پروفائلز اور یہاں تک کہ تصاویر بھی نہیں دیکھ سکتے کیونکہ مذہبی حکام اسے اسلامی تقاضوں کے مطابق نہیں سمجھتے۔

صرف ویب سائٹ کے منتظمین کو یہ چیزیں دیکھنے کی اجازت ہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون لوگ آپس میں ’ہم آہنگ‘ جوڑیاں بن سکتے ہیں۔

کیا یہ ویب سائٹ نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرے گی؟ اس کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن اسے تجسس ضرور پیدا ہوئی ہے۔

تہران کے ایک نوجوان نے بی بی سی فارسی کو بتایا ’یہاں تہران میں لوگوں سے ملنا بہت مشکل ہے اور یہ روایتی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک اچھا حل ہے۔‘

لیکن کئی لوگ خوش سے زیادہ ہوشیار لگتے دیے۔

تہران کے باشندہ علی کا کہنا ہے کہ وہ اس ویب سائٹ میں نہیں شامل ہونگے کیونکہ اپنی بیوی ڈھونڈنے کی ذمہ داری وہ ’حکام کو نہیں سونپ سکتے اور ان پر اعتماد نہیں کرتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption ایران میں شادی سے پہلے جنی تعلقات رکھنا غیر قانونی ہے جس کی وجہ سے کئی لوگ متعہ یا کم وقت کی شادیاں کرنا پسند کرتے ہیں

ایک ایسے ملک میں جہاں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی پر حکومت کا بہت زیادہ کنٹرول ہے وہاں پر حکومت کی ہی جانب سے متعارف کروائی گئی انٹرنیٹ ڈیٹنگ ویب سائٹ ایک عجیب سا قدم لگتا ہے۔

لیکن محمود گلرازی کے مطابق ایران میں تقریباً 300 انٹرنیٹ ڈیٹنگ ویب سائٹس پہلے سے ہی موجود ہیں اور یہ نئی ویب سائٹ ان لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کی امید رکھتی ہے۔

پہلے سے ہی موجود ڈیٹنگ ویب سائٹوں کو محمود ’غیر قانونی اور غیر اخلاقی‘ کہتے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ایسی ویب سائٹیں شادی سے پہلے جنسی تعلقات رکھنے کو فروغ دیتی ہیں جو ایران کے سخت شرعی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔ اس قانون سے بچنے کے لیے لوگ عارضی شادیاں یعنی متعہ کرتے ہیں۔

یقیناً کچھ ویب سائٹیں اس عمل کا استحصال کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں اور یہ ان لوگوں کے لیے ہیں جو صرف جنسی تعلقات رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

متعہ کے تحت ایک شادی 30 منٹ سے لے کر 99 سال کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے سرکاری کاغذات کی بھی ضرورت نہیں ہے اور بس ایک مذہبی عالم کی موجودگی کافی ہے۔

اس راستے کو اکثر پہلے سے شادی شدہ مرد اختیار کرتے ہیں جو دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شادی شدہ خواتین متعہ کا استعمال نہیں کر سکتیں۔

ایران میں نجی اور سرکاری ڈیٹنگ ویب سائٹوں کے بڑھنے کے باوجود ملک میں کئی ایرانی ہیں جو ڈیٹنگ کو حقیقی زندگی سے باہر نہیں لے کر جانا چاہتے۔

تہران میں رہنے والے ایک نوجوان محمد کہتے ہیں کہ وہ ’اس لڑکی کو ڈیٹ کرنا چاہتے ہیں جسے وہ حقیقت میں مل سکیں، انٹرنیٹ پر نہیں۔‘

اس سرکاری ڈیٹنگ ویب سائٹ کو اپنا ہدف پورا کرنے کے لیے ابھی خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

اسی بارے میں