مصنوعی جزیروں کی تعمیر:چین نےامریکی مطالبہ مسترد کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیر دفاع کارٹر نے کہا ہے کہ ’چین نے دو ہزار ایکڑ سے زیادہ کی زمین پر از سر نو دعوی پیش کیا ہے جو کہ علاقے کی تاریخ میں باقی تمام مدعیوں کے مجموعی دعوے سے زیادہ ہے‘

چین نے امریکہ کی جانب سے بحیرۂ چین میں مصنوعی جزیروں کو تعمیر کو فوراً روکنے کے مطالبے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مطالبہ ’بے بنیاد‘ اور ’غیر تعمیری‘ ہے۔

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر سنگاپور میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع پانیوں میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر فوری اور مستقل طور پر بند کردینا چاہیے۔

چین کے ایک اعلیٰ اہلکار سینئر کرنل ژاؤ زیاؤزو نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع کا بیان’ بے بنیاد‘ اور ’غیر تعمیری‘ ہے۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ علاقے میں چین کا رویہ عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ مصنوعی جزیروں کی تعمیر علاقے میں فوجی چپقلش کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ ہر اس جگہ سے تیرتا ہوا، پرواز کرتا ہوا پہنچےگا جس کی انٹرنیشنل قانون میں اجازت ہو گی۔

چین جنوبی بحیرۂ چین کے تقریباً تمام تر علاقوں پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جو پڑوسی ممالک کے دعوؤں سے متصادم ہے۔

دوسرے ممالک نے چین پر مصنوعی جزائر کی تعمیر کے لیے ناجائز طور پر زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کا عسکری استعمال ہو سکتا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایش کارٹر نے کہا کہ وہ ’تمام تنازعات کا پرامن حل‘ چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ اس کانفرنس میں ایشیا پیسفک ممالک کے وزرائے دفاع شرکت کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس ضمن میں تمام مدعیوں کی جانب سے فوری اور دیرپا طور پر زمین پر ملکیت کے نئے دعوے بند کر دینا چاہیے۔‘

Image caption متنازع جنوبی بحیرۂ چين میں سپریٹلی جزائر کے علاقے میں چین اس ماہ کے اوائل سے مصنوعی جزائر تیار کررہا ہے

انھوں نے اعتراف کیا کہ ویت نام، فلپائن، ملائشیا اور تائیوان جیسے دوسرے مدعیان نے اس علاقے کے کچھ حصوں پر ملکیت کا دعویٰ کیا ہے یا وہاں اپنی فوجی چوکی بنائی ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ’ایک ملک دوسرے ممالک کے مقابلے بہت اگے اور بہت تیزی کے ساتھ بڑھا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چین نے دو ہزار ایکڑ سے زیادہ کی زمین پر از سر نو دعویٰ پیش کیا ہے جو کہ علاقے کی تاریخ میں باقی تمام مدعیوں کے مجموعی دعوے سے زیادہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یہ واضح نہیں ہے کہ چین اور کتنا اگے جائے گا۔ اور اسی سبب اس علاقے کا پانی علاقے میں تنازع کی وجہ اور دنیا بھر میں اخبار کے پہلے صفحے کی خبر بن گیا ہے۔‘

امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس علاقے میں خاطر خاہ موجودگی برقرار رکھےگا۔ اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ’جہاں بھی بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے وہاں امریکہ اس علاقے میں پرواز کرے گا، کشتی رانی کرے گا اور اپنی سرگرمی جاری رکھے گا۔‘

بہرحال کانفرنس مین چینی مندوبین کے ایک رکن سینیئر کرنل ژاؤ ژیاژو نے کہا کہ چین کا عمل ’مناسب اور جائز ہے‘ اور ’تعمیراتی کام کی وجہ سے چین پر امن و استحکام کو متاثر کرنے کا الزام لگانا غلط ہے۔‘

ایش کارٹر کے بیان کے بعد امریکی وزرات دفاع کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ چین نے مصنوعی جزائر میں سے ایک پر دو توپ خانہ والی گاڑیاں رکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین نے اب تک سپریٹیلی کے متنازع علاقے میں تقریباً چار مربع کلومیٹر کا مصنوعی رقبہ تیار کر لیا ہے

خیال رہے کہ متنازع جنوبی بحیرۂ چين میں سپریٹلی جزائر کے علاقے میں چین اس ماہ کے اوائل سے مصنوعی جزائر تیار کررہا ہے۔

امریکی دعوے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے کہا کہ وہ ’مذکورہ حالات سے باخبر نہیں ہیں‘ اور امریکہ سے کسی قسم کے اشتعال انگیز بیان سے پرہیز کرنے کے لیے کہا ہے۔

اس سے قبل چینی وزاتِ خارجہ نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ اس علاقے میں اس کی سرگرمی جائز ہے اور وہ ملک کی خودمختاری کے تحفظ کا مجاز ہے۔

چین نے اب تک سپریٹیلی کے متازع علاقے میں تقریباً چار مربع کلومیٹر کا مصنوعی رقبہ تیار کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین میں جس علاقے میں اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے اس سمندری علاقے میں سالانہ پانچ کھرب ڈالر مالیت کی مصنوعات کی تجارت ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں