کشمیر میں فوج کو لامحدود اختیارات کیوں؟

مانِک سرکار تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption تریپورہ کے وزیراعلی مانِک سرکار کہتے ہیں کہ ایفسپا قانون کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا

بھارت کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ نے اس ہفتے کے اوائل میں اپنے خطے سے فوج کو خصوصی اختیارات دینے والے قانون ایفسپاکو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ غیر معمولی اختیارات کا یہ قانوں ریاست میں باغیانہ سرگرمیوں کو کچلنےکےلیے اٹھارہ برس قبل نافذ کیا گیاتھا۔

تریپورہ کے وزیر اعلیٰ مانِک سرکار نےکہا کہ ریاست میں اب شدت پسند سرگرمیاں ایک عرصے سےبند ہیں اس لیے اس قانون کو جاری رکھنےکا کوئی جواز نہیں ہے۔

شمال مشرق کی کئی اور ریاستیں شدت پسندی کا شکار رہی ہیں۔ آسام ، ناگا لینڈ ، میزورم اور منی پور میں بھی یہ قانون نافذ ہے۔ منی پور میں تو ایفسپا ہٹانےکےلیے ایروم شرمیلا ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

سابق وزیر داخلہ پی چدامبرم نے تریپورہ کے فیصلے کوانسانیت اور معقولیت پسندی کی جیت قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس قانون کو ختم کرنے کی میری اپیل پر تریپورہ نے عمل کیا۔ انھوں نےکہا کہ کسی مہذب ملک میں جو چیزیں نہیں ہونی چاہییں ان میں ایفسپا بھی شامل ہے۔

کسی کو محض شک کی بنیاد پر گولی مارنے اور کسی بھی عمارت میں داخل ہونے سمیت فوج کو لامحدود اختیارات دینے والا یہ قانون بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں بھی تقریباً پچیس برس سے نافذہے اور اسے ہٹائےجانےکےبارے میں ریاست میں کافی بحث بھی ہوتی رہی ہے۔

پی چدامبرم نے اپنی وزارت کےدوران کشیمر سے سپیشل پاور ایکٹ ہٹانےکی سفارش کی تھی لیکن بھارتی فوج نے ان کے فیصلے کی شدید مخالفت کی اور بالآخر اسے واپس نہیں لیاگیا۔

نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی کئی سیاسی جماعتیں یہ دلیل دیتی ہیں کہ سری نگر سمیت ریاست کے جن علاقوں میں شدت پسندی کا زورٹوٹ چکا ہے وہاں سے اس قانون کو ہٹا لیا جائے۔ ان کا کہنا ہےکہ اس قانون سے شہریوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور فوج کے ہاتھون غیر شدت پسندانہ معاملوں میں شہریوں کے قتل اور ریپ جیسے سنگین واقعات میں بھی اس قانون کے سبب جرم کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں

چند برس قبل سنگ باری کی تحریک کےدوران درجنوں نوعمر بچوں سمیت سوسے زیادہ نوجوانوں کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔ ان میں سے کسی ایک واقعے میں بھی کوئی سزا نہیں ہوئی جبکہ ہزاروں مظاہرین کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج کیےگئے تھے۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں کہتی رہی ہیں کہ اگر یہی واقعہ کسی دوسرے جمہوری ملک میں پیش آیا ہوتا تو اول تو سنگ باری کرنے والوں کو قتل نہ کیا جاتا اور دوسرے اگر غلطی سے ہلاکتیں ہو بھی گئی ہوتیں تو اس کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہوتی۔

شمال مشرقی ریاستوں میں ایک طویل عرصے تک شدت پسندی اورباغیانہ سرگرمیوں کے بعد صورتحال اب معمول پرآ رہی ہے۔ تریپورہ نےجو اہم قدم اٹھایاہے اس کا اثر دوسری ریاستوں پر بھی پڑے گا اور رفتہ رفتہ منی پور، ناگالینڈ اور اروناچل اور میزورم سے بھی یہ غیرمنصفانہ قانون ہٹا لیے جانےکی توقع ہے۔

کشمیر مین فوج بدستور سپیشل پاور ایکٹ کو ہٹانے کی مخالفت کررہی ہے حالانکہ بیشتر شہری علاقوں میں صورتحال پوری طرح اس کےقابو میں ہے۔ علیحدگی پسند رہمناؤں کی سرگرمیوں پر مکمل کنٹرول ہے۔ جلسے جلوسوں اورمظا ہروں پر موثر پابندی عائد ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر سکیورٹی کے اداروں کی گہری نظر ہے۔ ریاست میں بی جے پی اقتدار میں ہے۔

یہ قانون اب غیر ضروری بن چکا ہے۔ اس سےجمہوری اداروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ کشمیر میں یہی وقت ہے جب اسے اگر پوری طرح نہیں تو کم سے کم مرحلہ وار طور پرہٹا لیا جائے۔ کسی پارلیمانی جمہوریت میں اسی طرح کے قوانیں جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اسی بارے میں