کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوج اور شدت پسندوں میں جھڑپ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اس قسم کے تصادم کے واقعات ایک عرصے سے رونما ہوتے رہے ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع كپواڑہ میں بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے قریب فوج اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم جاری ہے۔

حکام کے مطابق یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب فوج نے ہتھیاروں سے لیس ایک گروپ کو کنٹرول لائن کے قریب روکا۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ بھارتی ’فوج نے تنگدھار سیکٹر میں ہتھیاروں سے لیس شدت پسندوں کے ایک گروہ کو اتوار کی صبح روکا۔‘

پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فوج کے جوانوں نے جب شدت پسندوں کو چیلنج کیا تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی اور یہ تصادم ابھی بھی جاری ہے۔‘

تاہم ابھی کسی بھی جانب سے کسی ہلاکت کی خبر نہیں ہے۔

اس سے قبل پولیس نے بتایا کہ ایک موبائل فون ٹاور پر ایک دستی بم پھینکا گیا جس میں کسی قسم کے نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں۔

حال میں نامعلوم حملہ آوروں کے مختلف ٹیلی کام اداروں پر کیے جانے والے حملوں میں دو افراد ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے۔

اس کی وجہ سے کشمیر کے کچھ حصوں میں ٹیلی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔

سری نگر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے پس پشت شدت پسند تنظیمیں ہیں لیکن اہم شدت پسند تنظیموں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی سازش قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں