نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آج تک کبھی کسی بھارتی وزیراعظم یا صدر نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ہے

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی رواں برس اسرائیل کا دورہ کریں گے۔

سشما سوراج نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے اسرائیل کے مجوزہ دورے کی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نریندر مودی کا تاریخی دورہ اس سال جولائی کے بعد ہو سکتا ہے جس دوران ایک بھارتی وفد بھی اسرائیل کا دورہ کرے گا۔

دونوں ممالک کےدرمیان 23 برس سے سفارتی تعلقات قائم ہیں اور انسداد دہشت گردی، دفاع، زراعت، پانی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں کے درمیان قریبی تعاون ہے۔

لیکن بھارت کے کسی وزیراعظم یا صدر نے ابھی تک اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ہے۔

سشما سوراج نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا کہ وہ بھی اس سال اسرائیل، فلسطینی علاقوں اور اردن کا دورے کریں گی۔

انھوں نے کہا ’جہاں تک وزیر اعظم کہ دورے کا سوال ہے، وہ اسرائیل کا سفر کریں گے۔ اب تک کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے اور دورہ دونوں ملکوں کی رضا مندی سے ہی طے ہوئے گا۔‘

بھارت میں اسرائلی سفیر ذینیل کارمن نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا۔

’ہندو‘ اخبار کے مطابق ڈینیل کارمن نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطحی دورے اسرائیل اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات کا حصہ ہیں۔‘

سنہ 2000 کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی حکومتی عہدیدار تھے۔ اور سنہ 2003 میں ایریل شیرون بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1992 میں 20 کروڑ ڈالرز کی تجارت سے سنہ 2013 میں تقریباً چار اعشاریہ چار ارب ڈالرز کی تجارت ہوئی تھی۔

سنہ 2013 میں بھارت اسرائیل کا دسواں سب سے بڑا تجارتی شریک تھا اور ایشیا میں چین اور ہانگ کانگ کے بعد اسرائیل کا تیسرا سب سے بڑا شراکت دار۔

اسی بارے میں