کالا جادو کرنے کے شبے میں خاتون کے ساتھ ’اجتماعی زیادتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی میڈیا نے اس گینگ ریپ کا موازنہ 2012 دسمبر میں ایک 23 سال کی طالب علم کے بس پر گینگ ریپ سے کر رہی ہے

بھارت کی ریاست مدھیا پردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی بھارت میں ایک قبائلی خاتون کو مبینہ طور پر کالا جادو کرنے کے شبے میں چھ افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ واقعہ 31 مئی کو مدھیا پردیش کی ریاست کے ضلعے شوپری میں کیمارا گاؤں میں پیش آیا تھا۔

35 سالہ خاتون کو ہسپتال منتقل کر لیا گیا ہے اور وہ زیر علاج ہیں۔

پولیس نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ملزمان بھی اسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے تمام چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا اس گینگ ریپ کا موازنہ 2012 دسمبر میں ایک 23 سال کی طالب علم کے بس پر گینگ ریپ سے کر رہی ہے۔

طلب علم کا ہسپتال میں انتقال ہو گیاتھا جس کے بعد عالمی سطح پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور بھارت کو خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم سے نپٹنے کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے پڑے۔

گاؤں کے کچھ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انھیں خاتون پر شبہ تھا کہ وہ کالا جادو کا استعمال کر رہی تھی جس کی وجہ سے کچھ بچے بیمار ہو کر انتقال کر گئے۔

پولیس کے مطابق مبینہ گینگ ریپ اور تشدد کے دوران گاؤں میں خاتون کی مدد کسی نے نہیں کی۔

شوپری پولیس کے سربارہ یوسف قریشی نے بی بی سی ہندی کو بتایا ’خاتون نے چھ افراد کا نام لیا جنھیں ہم نے گرفتار کر لیا ہے۔ ہم نے ان کا طبی معائنہ کیا ہے۔ ہم تفتیش کر رہے ہیں اور گاؤں والوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں