چین پر واضح کر دیا ہے کہ اقتصادی راہداری قابل قبول نہیں: بھارت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ہم نے چینی سفیر کو بھی طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا تھا اور بیجنگ میں بھارتی سفیر نے بھی چینی دفتر خارجہ سے احجاج کیا تھا‘

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہےکہ بھارت ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری کے سخت خلاف ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی جب گزشتہ ماہ چین گئے تھے تو مذاکرات کے دوران اس منصوبے کی انھوں نے سخت مخالفت کی تھی۔

سشما سوراج حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنی وزارت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کر رہی تھیں۔ وہ وزیر ِخارجہ ضرور ہیں لیکن خارجہ پالیسی کے بارے میں زیادہ تر وزیر اعظم نریندر مودی ہی بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

’بیان دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کو ظاہر کرتا ہے‘

بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر پاکستان کو تشویش

بھارت داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے: پاکستان

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے نہ صرف سفارتی چینل کے ذریعے بلکہ خود چینی رہنماؤں سے اپنی ملاقات میں اس منصوبے کی سخت مخالفت کی تھی اور انہیں بتایا کہ یہ قابل قبول نہیں ہے۔

’جب بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی کارروائی ہوتی ہے تو ہم ان کے سفیر کو بلا کر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن جب وزیر اعظم چین گئے تو انھوں نے اس بات کو بہت سختی سے کہا، اور کہا کہ یہ جو آپ نے اقتصادی راہداری کی بات کی ہے اور اس میں بھی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمریر میں جانے کی بات کی ہے، وہ ہمیں منظور نہیں ہے۔‘

تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارت کا بنیادی اعتراض اس بات پر ہے کہ یہ راہداری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہوکر گزرے گی اور اسے فکر ہے کہ یہ بنیادی ڈھانچہ فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تین ہزار کلومیٹر لمبی اقتصادی راہداری کا اعلان اپریل میں کیا گیا تھا جب چین کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ یہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو چین کے شنکیانگ خطےسے جوڑے گا اور اس کے تحت تقریباً چھالیس ارب ڈالر کی لاگت سے شاہراہوں، ریلویز اور پائپ لائنوں کاایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu

واضح رہے کہ اپریل میں چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے منصوبوں میں 30 سے زائد منصوبے اقتصادی راہداری سے متعلق ہیں۔

پاکستان اور چین نے 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

اقتصادی راہداری چین کے لیے بھی ایشا کے مختلف ممالک سمیت مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک تک رسائی اور وہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک سستا راستہ ثابت ہو گا۔

پاک بھارت تعلقات

تصویر کے کاپی رائٹ AP

حکومت کو اس تنقید کا بھی سامنا ہے کہ اس کی کوئی واضح پاکستان پالیسی نہیں ہے۔ اس بارے میں پوچھے جانے پر سشما سوارج نے کہا کہ پالیسی میں تبدیلی یا ترمیم کا تاثر غلط ہے، حکومت نے پہلے ہی پاکستان سے بات چیت کی شرائط واضح کردی تھیں اور ان پر اب بھی قائم ہے۔

ان کے مطابق بات چیت کے لیے تین شرائط ہیں۔ ’ہم ہر مسئلے کو پر امن مذاکرات سے حل کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن بات چیت صرف ہمارے اور پاکستان کے درمیان ہوگی ۔۔۔ نہ کوئی تیسرا ملک ثالثی کرے گا اور نہ کوئی تیسرا فریق پارٹی بنے گا اور بات چیت دہشتگردی اور تشدد سے دور ماحول میں ہوگی۔‘

’سب سے پہلے تو ہم ہر ایک مسئلے کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں، دوسرے یہ مذاکرات دونوں ملکوں یعنی ہمارے اور پاکستان کے درمیان ہوں گے۔ نہ تو کوئی تیسرا ملک ثالثی کرے گا نہ کوئی تیسرا فریق ہوگا۔ تیسرے یہ کہ دہشت گردی اور تشدد کو دور رکھنے کے لیے ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جانی چاہیے۔‘

کرکٹ سیریز کا امکان نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان اور بھارت کے درمیان فوری طور پر کرکٹ سیریز کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’یہ اطلاع آپ کو کس نے دی ہے کہ سیریز کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ کسی نے مجھ سے تو مشاورت نہیں کی۔ کوئی سیریز کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں