جنگی طیاروں کی ضرورت نہیں!

Image caption کبوتروں کو کسی زمانے میں پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب وہ جاسوسی بھی کرنے لگے ہیں

پاکستان سے ایک سفید کبوتر اڑ کر ہندوستان آیا، اور سرحد پار کرتے ہی جاسوسی کے شبے میں دھر لیا گیا۔

پنجاب پولیس نے فوراً انٹیلی جنس ایجنسیوں کو الرٹ کیا اور اب اس کبوتر کے ناپاک عزائم اور پاکستان میں بیٹھے اس کے ’ہینڈلرز‘ کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش شروع کر دی۔

اس بے چارے کبوتر کی تو شامت آگئی، معلوم نہیں کہ وہ اہم فوجی تنصیبات کے فوٹو کھینجنے آیا تھا یا صرف یہ دیکھنے کہ سرحد پار کبوتروں کی زندگی کیسی ہے۔ لیکن اب وہ قانون کے شکنجے میں آگیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اسے اپنی باقی ماندہ زندگی کسی کال کوٹھری میں گزارنا پڑے۔

ہو سکتا ہے کہ آزادی کے 75 سال پورے ہونے کے موقعے پر جذبہ خیر سگالی میں اس کا جرم معاف کر دیا جائے اور اسے سرحد کے قریب پھر کھلے آسمانوں میں اونچی اڑانے بھرنے کے لیے آزاد کر دیا جائے، اور پھر اسے ’ڈی بریفنگ‘ کے لیے سرحد پار کی ایجنسیاں اپنی تحویل میں لے لیں، اور پھر کبھی اس کا ذکر نہ سنا جائے۔

کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

اس کی پرواز نے بظاہر ہندوستانی ایجنسیوں اور دفاعی ماہرین کو ایک غیر معمولی آئیڈیا دیا ہے جو سوا ارب لوگوں کی زندگی میں خوشیاں بکھیر سکتا ہے۔

Image caption کبوتروں کی پیغام رسانی پراردو میں بہت سے اشعار ہیں جیسے خط کبوتر کس طرح لے جائے بام یار پر۔۔۔پر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر وغیرہ

پنجاب کی پولیس کا خیال ہے کہ کبوتر اور جاسوسی طیارے میں زیادہ فرق نہیں ہوتا اور شاید اسی موازنے سے متاثر ہوکر ملک کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان اب فرانس سے صرف 36 جنگی طیارے خریدے گا 126 نہیں، جیسا کہ پہلے ارادہ تھا۔

جس کام پر 25 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ تھا، وہ شاید اب دو ڈھائی سو ڈالر میں ہو سکتا ہے۔ بس کبوتروں کے دو چار سکواڈرن بنانے پڑیں گے، اور کچھ تو سرحد کے قریب سے مفت میں ہی ہاتھ آجائیں گے۔

جنگ میں کام نہ بھی آئے پھر بھی امن کا پیغام تو لے جا ہی سکتے ہیں۔

بہرحال جنگی طیارے نہ خریدنے کی جو بھی وجہ رہی ہو، وزیر دفاع نے ایک غیر معمولی اعتراف کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرا بھی دل کرتا ہے کہ بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز خریدوں، لیکن میں اس لیے نہیں خریدتا کیونکہ میری آمدنی اتنی نہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ مجھے ان کی ضرورت بھی نہیں۔ 126 جنگی طیارے خریدنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘

اچھے دن نہیں تو اچھی خبر سے کام چلائیے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا اب فرانس سے کم جنگی طیارے خریدے گا

جو پیسہ جنگی طیارے نہ خریدنے سے بچے گا، وہ اگر ملک کے غریب عوام کے حالات زندگی بہتر بنانے پر خرچ نہ کیا گیا تو اچھے دنوں کے لیے ان کا انتظار ذرا اور طویل ہو جائے گا۔

لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ملک کے سرکاری براڈکاسٹر نے ’اچھی خبروں‘ کا ایک بلیٹن شروع کر دیا ہے۔

بھارت کا سرکاری ٹیلی ویژن دور درشن بظاہر وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان سے بہت متاثر ہوا ہے کہ میڈیا کو مثبت واقعات یا اچھی خبروں پر بھی توجہ دینا چاہیے۔

دور درشن کے مطابق اس پروگرام میں ’ان معمولی لوگوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو غیر معمولی کارنامے انجام دیتے ہیں۔‘

اگر آپ کو اس پروگرام میں نریندر مودی زیادہ نظر آئیں تو حیران مت ہوئیے گا، وہ پہلے چائے بیچا کرتے تھے اب وزیر اعظم ہیں۔ معمولی آدمی کے غیر معمولی کارناموں کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے؟

اور ہاں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ دور درشن کی باقی خبروں میں وہ آپ کو اب کم نظر آئیں گے۔

اسی بارے میں