انڈیا: منی پور میں فوجی قافلے پر حملہ، 20 اہلکار ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں پولیس کے مطابق علیحدگی پسندوں کے ایک حملے میں فوج کے کم سے کم 20 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ چندیل ضلع میں کیا گیا جو مینمار (برما) کی سرحد پر واقع انتہائی دشوارگزار علاقہ ہے۔

حملے میں15 فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فوج کی چھ ڈوگرہ ریجمنٹ کی ایک گشتی پارٹی ریاستی دارالحکومت امفال واپس آ رہی تھی کہ اس پر باغیوں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔

سینیئر صحافی سوبیر بھومک کے مطابق ابھی تک کسی بھی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حملے میں راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ ( آر پی جی) استعمال کیے گئے جس کی وجہ سے ٹرکوں میں آگ لگ گئی اور جوانوں کی لاشیں جھلس گئیں۔

ضلع چندیل میں فوج کی فائرنگ میں ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد کل ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی تھی لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حملے کا اس سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

شمال مشرقی ریاستوں میں گزشتہ کئی برسوں کا یہ سب سے بڑا حملہ بتایا جا رہا ہے۔

شمال مشرقی بھارت کی کئی تنظیمیں حکومت ہند سے امن مذاکرات کر رہی ہیں لیکن منی پور کی بعض طاقتور تنظیمیں بات چیت کے لیے کبھی تیار نہیں ہوئی ہیں۔

سوبیر بھومک کے مطابق یہ تنظیمیں اب متحد ہوکر ایک پلیٹ فارم پر آگئی ہیں جس کے بعد ان کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس حملہ میں ان کاہاتھ ہو سکتا ہے۔

اپریل میں شدت پسنوں نے منی پور کی ہمسایہ ریاست ناگالینڈ میں سکیورٹی فورسز کے آٹھ ا ہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

گزشتہ ماہ شمال مشرقی ریاست تریپورہ کی حکومت نے فوج کو خصوصی اختیارات دینے والا قانون آفسپا ہٹنے کا اعلان کیا تھا کیونکہ وہاں علیحدگی پسند تحریک اب تقریباً ختم ہوجکی ہے۔

تاہم ناگالینڈ منی پور اور آسام میں اب بھی تشدد کے واقعات پیش آتے رھتے ہیں اور وہاں سرگرم باغیوں کی تنظیمیں کافی طاقتور ہیں۔

اسی بارے میں