’دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں افغان طالبان کے سر قلم‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دولتِ اسلامیہ نے پاکستان اور افغانستان کے لیے اپنا کمانڈر مقرر کر رکھا ہے

افغانستان میں فوج کے ایک محکمانہ رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے کم از کم دس طالبان شدت پسندوں کے سر قلم کر دیے ہیں۔

افغانستان میں بظاہر طالبان شدت پسندوں کی اس طرح ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

افغان انٹیلی جنس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں گذشتہ کئی ہفتوں سے سینکڑوں طالبان کی دولتِ اسلامیہ سے منسلک شدت پسندوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔

ٹی ٹی پی کے منحرف رہنما اب دولتِ اسلامیہ کے کمانڈر

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوبل کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں طالبان شدت پسندوں کی ہلاکت کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب بدھ کو افغان فوج کے 21 کور کی ایک محکمانہ رپورٹ غلطی سے ذرائع ابلاغ کو بھیج دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے پاکستان کی سرحد سے متصل دور افتادہ ضلع اچین میں حکومت کے زیرِ قبضہ علاقے پر حملے کیا جسے بعد میں فوج نے پسپا کر دیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں فرار ہونے والے شدت پسندوں میں سے دس کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے پکڑ لیا اور بعد میں ان کے سر قلم کر دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کے پاس ہے

طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق ان کے گروپ میں شامل تین جنگجو لڑائی میں مارے گئے تاہم انھوں نے تردید کی کہ ملک میں اس وقت دولتِ اسلامیہ سرگرم ہے۔

لیکن افغان انٹیلی جنس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ملک کے مشرق میں سینکڑوں طالبان شدت پسند اور دولتِ اسلامیہ سے منسلک شدت پسند ایک دوسرے پر کئی ہفتوں سے حملے کر رہے ہیں۔

رواں سال جنوری میں دولتِ اسلامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے طالبان کے ایک سابق ترجمان حافظ سعید خان کو افغانستان اور پاکستان کے لیے اپنا کمانڈر مقرر کیا ہے۔ حافظ سعید اس سے قبل طالبان سے منحرف ہو گئے تھے۔

ان کی تصدیق سے پہلے حافظ سعید خان ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے جس میں اُن کے ساتھ افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے دس شدت پسند رہنما شامل تھے اور اس ویڈیو میں ان رہنماؤں نے سعید خان سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔

اس سے پہلے اپریل میں جلال آباد میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کی شاخ کی جانب سے قبول کی گئی تھی جبکہ افغان طالبان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے پیچھے ان کا ہاتھ نہیں۔

اسی بارے میں