چین میں الٹنے والا جہاز سیدھا کر لیا گیا، لاشوں کی تلاش جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایسٹرن سٹار نامی یہ بحری جہاز پیر کو طوفان کی لپیٹ میں آنے کے بعد الٹ گیا تھا

چین کے دریائے یانگ زے میں گذشتہ دنوں الٹنے والے بحری جہاز کو بھاری کرینوں کی مدد سے مکمل طور پر سیدھا کر لیا گیا ہے۔

ایسٹرن سٹار نامی یہ بحری جہاز پیر کو طوفان کی لپیٹ میں آنے کے بعد الٹ گیا تھا۔

بحری جہاز پر سوار 456 مسافروں میں سے جہاز کے عملے کے دو ارکان سمیت صرف 14 لوگوں کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔

تاہم ابھی تک صرف 80 لاشوں کو ہی تلاش کیا جا سکا ہے اور اس حادثے کو چینی تاریخ کا بدترین حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔

ڈوبنے والے جہاز کو سیدھا کرنے کی مہم کا آغاز ہوتے ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ جہاز میں سوار کسی مسافر کے اب زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

اس جہاز کو سیدھا کرنے کے لیے دو بڑی کرینوں کی مدد لی گئی۔ سیدھا ہونے کے باوجود جہاز کا بیشتر حصہ اب بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

جہاز کو اٹھانے کے لیے اسے دھات کے ہکوں کے ساتھ جوڑاگیا اور ساتھ ہی اس کے ارد گرد ایک جال بچھايا گیا تاکہ لاشوں کو تلاش کیا جا سکے۔

Image caption اس جہاز کو سیدھا کرنے کے لئے دو بڑی کرینوں کی مدد لی گئی، جبکہ جہاز کا بیشتر حصہ اب بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژن ہوا نے جہاز کی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے۔ جسے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جہاز کی چھت مکمل طور پر ٹوٹ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ژن ہوا کے مطابق جمعرات کو وزارت مواصلات کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’جہاز میں مزید زندہ افراد کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔‘

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ژو چینگ یوانگ نے کہا کہ’تحقیقات کے دوران کسی بھی چیز کو پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا۔‘

اس حادثے میں لاپتہ افراد کے رشتہ دار بہت مایوسی اور غصہ ہیں کیونکہ انھیں جائے حادثہ کے قریب نہیں جانے دیا جا رہا۔

جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہیں، لیکن اس حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ جہاز طوفان میں پھنس گیا تھا اور جہاز کچھ ہی منٹوں میں الٹ گیا۔

اسی بارے میں