دلی میں سانس لینا دوبھر، لوگ شہر چھوڑنے کی فکر میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دلی کی آلودہ فضا میں بچوں میں سانس کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں

فضائی آلودگی پر بات کرنا ایک سنجیدہ کام ہے۔

بھارت کے دارالحکومت میں دہوئیں اور دھند بھری فضا کے متعلق آنے والے ایک نئی رپورٹ کے بعد اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ دلی کیوں یہاں کے رہائشیوں کو صاف ہوا مہیا نہیں کر سکتا۔

اس موضوع پر اخبارات اداریے اور رپورٹیں لکھ رہے ہیں، ٹوئٹر پر ہیشٹیگ ٹرینڈ ہیں اور شراب خانوں، کیفے اور پارکوں میں اسی پر بات ہو رہی ہے۔

لیکن کچھ دن بعد اگر دلی کے خطرناک مسائل پر کوئی اور ہلا دینے والی رپورٹ نہ آئی تو زندگی معمول پر واپس آ جائے گی۔

نیو یارک ٹائمز کے جنوبی ایشیا کے نامہ نگار گارڈینر ہیرس نے گذشتہ ہفتے ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے بتایا کہ بھارت چھوڑنے کے ان کے فیصلے کی وجہ دلی کی فضائی آلودگی ہے۔

انڈین اخبار ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ نے جو ’دلی کو سانس لینے دو‘ کی مہم چلا رہا ہے ہیرس کا مضمون اپنے صفحۂ اول پر شائع کیا۔

دوسرے اخبارات میں بھی شہ سرخیاں متنبہ کر رہی ہیں کہ دارالحکومت لوگوں کے لیے غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔

اور ’سانس سے موت‘ سے زیادہ خطرناک شہ سرخی نہیں ہو سکتی۔

لیکن اس مسئلے پر پہلی مرتبہ بحث نہیں ہو رہی ہے۔

تقریباً ایک سال پہلے عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ میں دلی کو دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کو بعد میں انڈین حکومت نے رد کر دیا تھا۔

بعد ازاں یہ خبریں بھی آئیں کہ جنوری میں صدر براک اوباما کے دورے سے قبل امریکی سفارتخانہ ہوا صاف کرنے والی مشینیں خرید رہا تھا۔

ایسی رپورٹیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ غیر سرکاری تنظیمیں بھی دلی کو صاف اور سبز بنانے کے لیے انتظامیہ سے لڑائی لڑتی رہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہر روز دلی کی سڑکوں پر ایک ہزار نئی کاروں کا اضافہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کبھی کبھار وزرا اور حکام بھی دلی کی آلودگی کے مسئلے پر کوئی بیان دے دیتے ہیں۔

لیکن ایسا نہیں لگتا کہ صورتِ حال بدل رہی ہے۔

اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کہ دلی کی فضا کتنی زہرآلود ہو چکی ہے آپ کو زیادہ مصروف اوقات میں دلی کی سڑکوں پر نکلنا پڑے گا اور اس سے آپ کو یہ پتہ بھی چلے گا کہ کیوں پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا بچوں اور بڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

دلی کی ہوا میں موجود سب سے خطرناک ذرہ پی ایم 2.5 جائز سطح سے 20 گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔

پی ایم 2.5 ذرات پھیپھڑوں اور کئی مرتبہ تو خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ سانس اور دل کے مسائل اور سرطان بھی پیدا کر سکتا ہے۔

سو یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی کہ ایک سرکردہ اخبار نے سرخی لگائی کہ ’دلی چھوڑ جائیں۔‘

لیکن پھر کیوں کچھ لوگ دارالحکومت کو اپنا گھر بنا رہے ہیں؟

شہر کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ہے اور ہزاروں افراد روزانہ قریبی ریاستوں سے یہاں کام کے لیے آتے ہیں۔

لیکن یہ رجحان کوئی نیا نہیں ہے۔

دلی نسلوں سے شاعروں، لکھاریوں، آرٹسٹوں، حکمرانوں اور ایسے افراد کا گھر رہا ہے جو یہاں اپنے دیہات اور شہروں سے دور پیسے کمانے آتے تھے۔

دلی کی اقتصادی ترقی اور ڈھانچے نے ایک مضبوط مڈل کلاس کو جنم دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شہر کی سڑکوں پر روزانہ 1,000 نئی کاریں دوڑتی ہیں۔ شہر کے نواح میں نئے اپارٹمنٹس، شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹ بنائے جا رہے ہیں۔

لیکن اس عمل کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

تعمیراتی فضلے کو کھلی جگہوں پر پھینک دینے سے مٹی کی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ دوسری رپورٹس میں کم ہوتے دلی کے سبز غلاف کی بھی بات کی گئی ہے۔

ان مسائل کے باوجود حکومتیں فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے کوئی قابلِ عمل منصوبہ بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

اپریل میں دلی ہائی کورٹ نے حکومت پر تنقید کی تھی کہ اس نے شہر کی ہوا کو صاف کرنے کے لیے ایک مبہم اور عمومی سا منصوبہ بنایا تھا۔

لیکن گارڈینر ہیرس کی طرح ہر کسی کے پاس شہر چھوڑ کر کہیں اور رہنے کی سہولت نہیں ہے۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ دلی کے لوگوں کے پاس دوسرے طریقے بھی موجود ہیں اور انھیں ایسے کاموں جیسا کہ کار شیئر کرنا، درخت لگانا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اسی بارے میں