نیسلے کا میگی نوڈلز کو بھارتی بازار سے ہٹانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میگي نوڈلز نیسلے انڈیا کا بڑا برانڈ ہے اور پوری پیداوار میں اس کی حصہ داری تقریباً 30 فیصد ہے

میگي نوڈلز کے محفوظ ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود نیسلے نے اپنی جھٹ پٹ تیار ہو جانے والی نوڈلز کو بھارت میں بازار سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیسلے نے ایک بیان میں کہا ہے، ’بدقسمتی کی بات ہے کہ حالیہ واقعات اور میگي کے بارے میں غیر ضروری خدشات کی وجہ سے صارفین میں ایک الجھن پیدا ہوئی ہے۔‘

کمپنی نے کہا ’حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ہم نے اس کی مصنوعات کے محفوظ ہونے کے باوجود اسے بازار سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

تاہم نیسلے نے یہ بھی کہا ہے کہ جیسے ہی حالات واضح ہوں گے، میگي کی بازار میں واپسی ہوگی۔

میگي نوڈلز میں مبینہ طور پر مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (ایم ایس جی) نامی مرکب کی موجودگی اور متعین حد سے کہیں زیادہ سیسہ پائے جانے کی وجہ سے اس کے محفوظ ہونے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

مونوسوڈیم گلوٹامیٹ کو چائنیز کھانوں میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خوراک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم ایس جی کی زیادہ مقدار کی موجودگی سے سر میں درد، سینے میں تکلیف اور متلی کی شکایت ہو سکتی ہے اور اس کے طویل عرصے تک استعمال سے اعصابی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

ان مرکبات کی موجودگی کے انکشافات کے بعد ریاست گجرات کی حکومت نے میگي نوڈلز کی فروخت پر ایک ماہ کی پابندی عائد کی جبکہ دارالحکومت دہلی میں اس پر 15 دن کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

اتر پردیش کی حکومت نے کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ میگي نوڈلز کی ایک مخصوص کھیپ واپس منگوائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی فوج کی کینٹینوں اور ’بگ بازار‘ جیسے کئی ریٹیل سٹورز نے بھی میگي کی فروخت بند کر دی ہے

اتراکھنڈ کی حکومت نے بھی میگي پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ریاست کیرالہ میں بھی حکام نے حکومت کے ماتحت چلنے والی ایک ہزار دکانوں پر میگی نوڈلز کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی فوج کی کینٹینوں اور ’بگ بازار‘ جیسے کئی ریٹیل سٹورز نے بھی میگي نوڈلز کی فروخت بند کر دی ہے۔

خوراک اور صارفین کے امور کے وزیر رام ولاس پاسوان نے بھی جمعرات کو کہا تھا کہ میگي نوڈلز کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد مرکزی حکومت کارروائی کرے گی۔

نیسلے انڈیا سوئٹزرلینڈ میں موجود نیسلے کی ماتحت کمپنی ہے۔

میگي نوڈلز نیسلے انڈیا کا بڑا برانڈ ہے اور پوری پیداوار میں اس کی حصہ داری تقریباً 30 فیصد ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ادارے کی لیبارٹری اور باہر کی ایک لیبارٹری سے بھی میگی نوڈلز کا ٹیسٹ کروایا ہے اور ان کی پروڈکٹ کھانے کے لیے محفوظ ہے۔

کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی جانب سے ایم ایس جی نامی مرکب کو میگی نوڈلز میں استعمال نہیں کیا گیا اور اگر یہ موجود ہے تو یہ میگی نوڈلز میں موجود قدرتی اجزا سے آیا ہو گا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنی مسلسل بنیادوں پر میگی نوڈلز میں سیسے کی مقدار کی جانچ پڑتال کرتی ہے جو کہ ضابطے کے مطابق ضروری ہے۔

اسی بارے میں