ناروے میں طالبان کی افغان خواتین وفد سے بات چیت

Image caption افغان پارلیمنٹ کی رکن شکریہ باراکازئی نے ان مذکرات کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے

افغان حکام اور طالبان کے مطابق ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں افغان خواتین ارکانِ پارلیمان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان غیر رسمی بات چیت ہوئی ہے۔

افغان صدر کے دفتر اور طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ ملاقات جمعے کو ہوئی جبکہ طالبان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس بات چیت کا تعلق امن مذاکرات سے نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملاقات میں افغان خواتین کے حقوق پر بات چیت ہوئی۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ناروے کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس بات چیت کی تصدیق کی ہے۔

اے پی کے مطابق افغان خواتین ارکانِ پارلیمان نے اوسلو میں طالبان نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں اور طالبان کی خواتین سے بات چیت کا یہ غیر معمولی واقعہ ہے۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ غیر رسمی بات چیت تھی اور ان کو امن مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔

وفد میں شامل افغان پارلیمنٹ کی رکن شکریہ بارکزئی نے اس بات چیت کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔

ایک افغان اہلکار نے اے پی کو بتایا ہے کہ تین اور چار جون کو ہونے والے یہ بات چت ناروے کی حکومت کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی طویل مدتی کوششوں کا حصہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وفد میں شامل افغان پارلیمنٹ کی رکن شکریہ بارکزئی نے اس بات چیت کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے

اطلاعات کے مطابق عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ممتاز سرگرم کارکن فوزیہ کوفی اور شکریہ باراکازئی سمیت پانچ خواتین افغان ارکانِ پالیمنٹ نے بات چیت میں حصہ لیا۔

افغان اہلکار کے مطابق افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کی کچھ خواتین ممبران بھی اس بت چیت میں شامل تھیں۔

واضع رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغان حکومت اور طالبان میں رابطوں میں تیزی آئی ہے اور گذشتہ ماہ افغانستان امن کونسل کے کچھ نمائندوں اور بعض آزاد سیاسی شخصیات پر مشتمل ایک 20 رکنی وفد طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے قطر گیا تھا۔

قطر مذاکرات میں افغان امن کونسل کے اراکین کے علاوہ افغانستان میں موجود دوسری بڑی مزاحمتی تحریک حزبِ اسلامی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔

افغان طالبان نے دو روزہ قطر مذاکرات میں اپنی سابقہ شرط کو دہراتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے دفتر کی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اور یہ کہ غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا ہی مفاہمتی عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

اسی بارے میں