دارجیلنگ، چائے اور ٹرین کی دم توڑتی بھاپ

تصویر کے کاپی رائٹ

ایک وہ وقت تھا جب ’ڈارجیلنگ ہمالین ریلوے‘ ہمالیہ کے بلند پہاڑوں کے دامن میں واقع باغات سے خوشبودار چائے لے کر دنیا بھر کی کیتلیوں کو مہکا رہی تھی لیکن ڈیوڈ بیلی کے بقول یہ تاریخی ریل گاڑی سرکاری نظام کی بے پناہ نااہلی اور عدم توجہی کے بعد اب اس مقام پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں سے اس کی واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

’جب دو ہزار ڈالر فی کلوگرام کے بھاؤ فروخت ہونے والی چائے پیدا کرنے والے ایک شخص نے مجھے ناشتے میں چائے کی پیالی پیش کی تو میرا خیال تھا کہ وہ اس سنہری اصول کی پاسداری کرے گا کہ اچھی چائے بنانے کے لیے آپ ہمیشہ ابلتے پانی سے بھری ہوئی کیتلی استعمال کرتے ہیں۔‘

اس میں کوئی شک نہیں راجہ بینرجی دارجیلنگ کے قریب واقع دنیا کی مہنگی ترین چائے کے مشہور ’مکیاباری ٹی گارڈن‘ کے مالک ہیں لیکن وہ گرم کیتلی والے سنہری اصول کو نہیں مانتے۔

ان کے بقول ’اچھی چائے اچھی شراب کی مانند ہوتی ہے اور شراب کی طرح چائے کو بھی سانس لینے کے لیے آکسیجن درکار ہوتی ہے۔ ابالنے سے آپ چائے کا دم گھوٹ دیتے ہیں۔‘

اپنے اس اصول کے تحت راجہ بینرجی پانی کو بغیر ڈھکن والی کیتلی میں کئی منٹ تک ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور پھر اس میں چائے کے چمچ ڈالتے ہیں۔

چائے کے بارے میں اپنے فلسفے اور اصولوں پر گفتگو کرتے ہوئے مسٹر بینرجی کئی مرتبہ میری پیالی میں تازہ چائے انڈیلتے رہے اور میں مزیدار چائے کی چکسیاں لیتے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا جس میں چائے کے اوصاف سے لیکر ہندو مت، مشہور فرانسیسی فلسفی ریڈولف سٹینر اور اٹلی کے مشہور سیاحتی مقام ٹوسکنی میں سیاحت کے عروج و زوال کی کہانیاں شامل تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راجہ بینرجی کی سنہ 2008 کی ایک تصویر

یہ موضوعات اپنی جگہ، لیکن جس خیال نے مسٹر بینرجی کے ذہن میں آج کل گھر کیا ہوا ہے وہ ہے برطانوی راج کے وقت بچھائی جانے والی ’ڈارجیلنگ ہمالین ریلوے‘ نامی ریل کی اس پٹری کی بحالی جو کبھی ہمالیہ کے دامن سے مکیاباری چائے لے کر بنگال کے میدانی علاقوں تک لے جاتی تھی۔ وہاں سے یہ چائے سمندر کے راستے دنیا بھر کو روانہ کی جاتی تھی اور لوگ اسے ابلتے پانی سے بھری ہوئی ڈھکن والی کیتلیوں میں ڈال کر گرما گرم چائے بناتے تھے۔

سنہ 1879 میں بچھائی جانے والی 88 کلومیٹر طویل یہ پٹری اگرچہ تاریخ کے کمزور دھاگوں سے تو بندھی ہوئی ہے لیکن اب انڈیا کی ریلوے کے لیے اسے قائم رکھنا ایک گھاٹے کا سودا بن چکا ہے۔

لیکن مکیاباری ٹی گارڈن کے مالکان کی گذشتہ چار نسلوں کی قدِ آدم پینٹنگز سے مزین دیواروں کے درمیان بیٹھے ہوئے بینرجی حکومت کی اس منطق کو نہیں مانتے اور وہ بضد ہیں کہ ریلوے کے اس تاریخی نظام کو بحال ہونا چاہیے۔

’اگر سرمایہ کاری نہیں کی جاتی تو یہ نظام مر جائے گا۔ اور اگر سرمایہ کاری ہوتی ہے تو یہ ریلوے اس علاقے میں سیاحت میں جان ڈال سکتی ہے جس سے یہاں کے لوگ بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور میں یہ سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہوں۔‘

لیکن اس کے ساتھ راجہ بینرجی کا تمام جوش و جذبہ اس بات پر دم توڑ دیتا ہے کہ ’حکومت مجھے اس کی اجازت نہیں دے گی۔‘

یہ خیالات صرف بینرجی تک محدود نہیں بلکہ جو لوگ اس علاقے کو جانتے ہیں ان کی اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کسی کو ’ڈارجیلنگ ہمالین ریلوے‘ کی بحالی کی اجازت نہیں دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ڈارجیلنگ ہمالین ریلوے‘ کی سنہ 1910 کی ایک تصویر جب اس سروس میں ایک گول چکر بھی ہوا کرتا تھا

’ڈارجیلنگ ہمالین ریلوے‘ کے تحت اب ایک دو ریل گاڑیاں ہی باقی بچی ہیں جن میں سے زیادہ مقبول ’جوائے ٹرین‘ نامی وہ ریل گاڑی ہے جو کوڑے کرکٹ سے اٹے ہوئے دارجیلنگ شہر کے مرکز اور اس سے سات کلومٹیر دورگھُم کے مقام کے درمیان چلتی ہے۔

گنجائش سے زیادہ مسافروں سے ٹھُسی ہوئی اس ٹرین کی کھڑکیاں پلاسٹک کی بنی ہوئی ہیں جو دھوئیں سے سیاہ ہو چکی ہیں اور بوگیوں کی دیواریں اس قدر خستہ کہ ان کی جگہ اب آپ کو دھات کے پتلے پتلے پرت ہی دکھائی دیتے ہیں۔

آپ باہر کا دلکش نظارہ لینے کے لیے پلاسٹک کی کھڑکی کو آگے پیچھے کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ ایسا کریں گے تو پیچھے بیٹھے ہوئے مسافر چیخنا شروع کر دیں گے کہ اب ان کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کئی سال تک یہ ٹرین 26 کلومیٹر دور کرسیونگ تک جاتی رہی

شکر ہے کہ ان ٹرینوں کے دھات سے چلنے والے انجن بوگیوں سے زیادہ دلکش ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان انجنوں کی عمریں سو سال سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ ان انجنوں کو بحال کرنے کے لیے بڑی احتیاط اور بڑے سلیقے کی ضرورت ہے لیکن جس طرح میں نے کاریگروں کو ان پر ہتھوڑے برساتے دیکھا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ کام ہونے جا رہا ہے۔

کئی سال تک یہ ٹرین 26 کلومیٹر دور کرسیونگ تک جاتی رہی جہاں یہ دارجیلنگ ریلوے کو بھارت کی مرکزی لائن سے ملاتی تھی لیکن پھر حکومت نے اسے بند کر دیا۔ حکومت کی طرف سے اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کے اس علاقے میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے ایسا نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیاح ’جوائے ٹرین‘ کی سواری کے شوق میں دارجیلنگ پہنچ رہے تھے۔

لیکن یہاں آپ جس شخص سے ملیں وہ اس بندش کی اپنی ہی کوئی کہانی سناتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ حکومت نے یہ سروس اس وجہ سے بند کی کہ مسافر کرایہ نہیں دیتے تھے اور دوسرا اس کی کوئی اور وجہ بتاتا ہے۔

وجہ چاہے کچھ بھی ہو، حقیقت یہ ہے کہ ’ڈارجیلنگ ہمالین ریلوے‘ سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے ایک ایسے سفر پر گامزن ہے جسے ایک ’خود کش‘ سفر ہی کہا جا سکتا ہے۔

چائے کی باغات کی سیر کے بعد جب میں واپس ایئر پورٹ پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ٹیکسی ڈرائیور بے چینی سے ان سیاحوں کا انتظار کر رہے تھے جو ’جوائے ٹرین‘ کی سواری کے شوق میں دارجیلنگ پہنچ رہے تھے۔

لیکن مجھے یہی لگا کہ راجہ بینرجی کا خوبصورت ڈائننگ کاروں سے مزین عالمی سطح کی سیاحتی ٹرین سروس کا خواب دم توڑ رہا ہے اور شاید اس کے ساتھ ساتھ بغیر ڈھکن کی کیتلی میں چائے بنانے کا تاریخی فن اور ذائقہ بھی۔

اسی بارے میں