بھارت: ’متنازع ریپ ٹیسٹ کی اجازت نہیں دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حالیہ سالوں میں بھارت نے جنسی جرائم کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کروائے ہیں

بھارتی دارالحکومت دہلی میں حکام نے واضح کیا ہے کہ ریپ کے معاملات میں ڈاکٹروں کو متنازع ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کے استعمال کرنے کا نہیں کہا گیا ہے اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے سر کاری خط کی غلط تشریح کی گئی ہے۔

دہلی میں محکمہ صحت نے حال ہی میں ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کرنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔

حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر سوال اٹھنے کے بعد وزیر صحت ستیندر جین نے پیر کو پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس ٹیسٹ کا استعمال ریپ کیسز میں نہیں کیا جائے گا۔‘

وزیرِ صحت کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ہم نے اس سلسلے میں ایک اجلاس منعقد کیا ہے اور جلد ہی نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے پہلے نوٹیفیکیشن کی غلط تشریح کی گئی ہے۔‘

ستیندر جین کا کہنا ہے کہ محکمۂ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ ٹیسٹ اعضا کو لگنے والی چوٹ کے تجزیے، انفیکشن کی جانچ اور اس کے علاج کے لیے معلومات جمع کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے اور ریپ کے معاملات اس کے استعمال پر بدستور پابندی ہے۔

واضع رہے کہ سنہ 2013 میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ عورتوں کی رازداری کے حق کو مجروح کرتا ہے اور اس کی کوئی سائنسی اہمیت بھی نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی وزارتِ صحت نے اس ٹیسٹ کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اکثر ملزمان کے وکلا اس ٹیسٹ سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ متاثرہ خاتون جنسی معاملات میں پہلے ہی تجربہ کار ہے اور اس کا ریپ نہیں ہوا ہے۔

اگرچہ حالیہ سالوں میں بھارت نے جنسی جرائم کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کروائے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اب بھی متاثرہ خاتون کے کنوارے ہونے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں