مودی کی بات، ٹوئٹر پر غصہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے بنگلہ دیشی وزیراعظم کی سیاسی کامیابیوں کو سراہا، لیکن سوشل میڈیا پر ان کے بیانات پر تنقید ہو رہی ہے۔

کئی افراد نے اس موقعے پر مودی کا مذاق اُڑایا۔

بھارتی وزیراعظم نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایک گھنٹہ طویل خطاب میں کہا تھا کہ ’ہم دہشت گردی کے علاوہ ہر چیز کا حل جانتے ہیں۔ میں خوش ہوں کہ خاتون ہونے کے باوجود وزیراعظم نے دہشت گردی کے لیے ’’زیرو ٹولرنس‘‘ کا اعلان کر رکھا ہے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر مودی سیاست میں ’خواتین کی طاقت‘ کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے الفاظ کا چناؤ مناسب نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter

وزیراعظم مودی کے بیان کے بعد ٹوئٹر پر despitebeingwomen ’خاتون ہونے کے باوجود‘ اور gaffe ’بے تکی بات‘ کا ہیش ٹیگ بہت زیادہ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ٹوئٹر پر زیادہ تر افراد نے ’خاتون ہونے کے باوجود انھوں نے جو حاصل کیا‘ کو نمایاں کیا، جبکہ بعض افراد نے ردعمل کے طور پر غصے کا اظہار کیا اور کچھ افراد نے تو مودی کا مذاق بھی اڑایا۔

مثال کے طور پر ایک خاتون نے despitebeningwomen کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ ٹویٹ کیسے کرنا ہے۔‘ ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’میری کیوری نے فزکس اور کیمسٹری دونوں میں نوبل انعام جیتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ twitter

ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم وزیراعظم کی تقریر کرنے سے پہلے اُسے دیکھ لیں۔‘

وزیراعظم مودی نے گذشتہ سال ستمبر میں جاپان کے دورے کے دوران چین پر تنقید کی تھی۔ جس پر خارجہ امور کے تجزیہ کاروں نے بھارتی وزیراعظم پر تنقید کی تھی اور جنوبی کوریا کے دورے کے موقعے پر نریندر مودی کے مہاجرین کے بارے میں بیان پر بھی ٹوئٹر پر انھیں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بھارتی کونسل برائے عالمی اُمور سے وابستہ ڈاکٹر اطہر ظفر کا کہنا ہے کہ ’مسٹر مودی بھارت اور بیرونی دنیا کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انھیں اپنے الفاظ میں احتیاط برتنی چاہیے۔

’اُن کی نیت صحیح ہو سکتی ہے لیکن اگر غلط الفاظ استعمال کیے جائیں تو غلط پیغام پہنچ سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر ظفر نے کہا کہ مودی کی خارجہ پالیسی کا کامیابیاں سیاسی لحاظ سے دیے گئے غلط بیانات کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں۔

اسی بارے میں