’قیامِ امن کے لیے طالبان سے پہلے پاکستان سے بات چیت ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ arg
Image caption اشرف غنی نے کہا کہ امن معاہدہ بھائی سے نہیں ہوتا بلکہ ان سے ہوتا ہے جن کے ساتھ جنگ ہوتی ہے

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے اور قیامِ امن کے لیے طالبان سے پہلے پاکستان سے بات چیت کی جانی چاہیے۔

انھوں نے یہ بات منگل کو ملک کے جنوبی صوبے قندہار میں قبائلی عمائدین سے ملاقات میں کہی۔

مندیگاک محل میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے افغان صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان سے اس مسئلے کو تسلیم کروایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے عموماً اور گذشتہ 14 برس سے خصوصاً پاکستان افغانستان سے ایک غیر اعلانیہ جنگ میں مصروف ہے۔‘

قندہار میں بی بی سی پشتو کے نامہ نگار مامون درانی کے مطابق اشرف غنی نے یہ بھی کہا کہ ’امن (معاہدہ) بھائی سے نہیں ہوتا بلکہ ان سے ہوتا ہے جن کے ساتھ جنگ ہوتی ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی سے افغانستان کے خلاف غیراعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم پاکستان کے ساتھ پہلے امن معاہدہ کریں تاکہ طالبان امن پر راضی ہوں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے خفیہ اداروں کے درمیان مفاہمت کے معاملے پر تنازع کھڑا ہونے کے بعد انھوں نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک اس سلسلے میں کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سلامتی کے قومی ڈائریکٹریٹ کے سربراہ قومی مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تبھی اس معاہدے پر دستخط کریں گے جب اس سلسلے میں مشاورت اور عمومی اتفاقِ رائے ہو جائے گا۔

افغان صدر کا یہ بیان ان کے ماضی قریب میں پاکستان سے متعلق بیانات کے برعکس ہے جن میں انھوں نے پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے لیے تشویش کا باعث بننے والے معاملات سے نمٹنے کی بات کی تھی۔

اسی بارے میں