’طالبان کو ایران کی مالی و عسکری مدد میں اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ عرصے میں افغانستان میں طالبان کی جارحانہ کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

ایک امریکی روزنامے کے مطابق ایران گذشتہ عرصے میں خاموشی سے طالبان کے ساتھ مراسم بڑھاتا رہا ہے اور اب ایران نہ صرف طالبان کے لیے نئے جنگجو بھرتی کر رہا ہے بلکہ ان کی تربیت میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے طالبان کو اسلحے، گولہ بارود اور مالی مدد میں اضافے کے بعد افغانستان میں امن عامہ کی نازک صورتحال کو مزید خطرات کا سامنا ہے۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے بارے میں ایران کی حکمت عملی کے دو پہلو ہیں، ایک جانب ایران خطے میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو روکنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے پھیلاؤ کے خلاف طالبان کو تیار کرنا چاہتا ہے۔

سفارتکاروں کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں افغانستان میں طالبان کی جارحانہ کارروائیوں میں تیزی اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے سرگرمیوں میں اضافے سے اس امکان میں اضافہ ہو گیا ہے کہ طالبان کے کچھ رہنما افغان حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ایک مغربی سفارتکار کے بقول ’ایران طالبان کے دوبارہ ظہور کے حوالے سے جُوا کھیل رہا ہے۔ ایران کو یقین نہیں کہ آنے والے دنوں میں افغانسنان کی سمت کیا ہوگی، اس لیے وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے خیال سے طالبان پر داؤ لگا رہا ہے۔‘

وال سٹریٹ جرنل کےمطابق اخبار نے اس حوالے سے ایران کا مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن ایران نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم گذشتہ عرصے میں ایران مغربی سفارتکاروں سے ساتھ بات چیت میں بارہا اس الزام سے انکار کرتا آیا ہے کہ وہ طالبان کو کسی قسم کی مالی یا فوجی مدد فراہم کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption س سال دولتِ اسلامیہ نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کار افغانستان اور پاکستان تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا

امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین ایڈ روئس کا کہنا ہے کہ اگر مغربی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری سمجھوتے پر دستخط ہو جاتے ہیں اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی ہو جاتی ہے تو ایران طالبان کی مدد میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ریپبلکن سینیٹر کے بقول ’ایران پورے خطے میں عسکریت پسندوں اور باغی گروہوں کی مدد میں اضافہ کر رہا ہے اور ایران کو اقتصادی پابندیوں پر نرمی سے اربوں ڈالر کا جو فائدہ ہونے جا رہا ہے، اس کے بعد عسکریت پسندوں کی مدد میں بڑا اضافہ ہونے جا رہا ہے۔‘

سینٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

جان مکین کے مطابق ایران کی جانب سے طالبان کی مدد میں اضافہ دراصل یمن، شام، عراق اور لبنان میں ایران کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کی ایک کڑی ہے۔ ’یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ اوباما انتظامیہ زمینی حالات سے جان بوجھ کر نظریں چرا رہی ہے اور زمینی حالات بتاتے ہیں کہ خطے میں ایرانی جارحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

وال سٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکاروں نے ایران اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی اطلاعات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے لیکن ان اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی سفارتکاری میں بہتری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اوباما انتظامیہ کو اس بات کی فکر نہیں کہ ایران خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران اور طالبان کے درمیان تعاون کے حوالے سے افغانستان کے حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایرانی حکمتِ عملی کاحصہ ہے۔ ان اہلکاروں کے بقول ایران پہلے ہی شام اور عراق میں داعش یا دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی لڑ رہا ہے اور ایران کو خدشہ ہے کہ کہیں اسے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی سرحد کے قریب ایک نیا محاذ نہ کھولنا پڑ جائے۔

اس لیے ’ایران دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ طالبان کے ذریعے کرنا چاہتا ہے۔‘

جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو انھیں دولتِ اسلامیہ کی طرف سے ایک مختلف خطرے کا سامنا ہے کیونکہ طالبان کے خیال میں دولت اسلامیہ خطے میں ان کی مدقابل طاقت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ افغانی اہلکاروں اور کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سال جب سے دولتِ اسلامیہ نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کار افغانستان اور پاکستان تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے اس وقت سے یہ گروہ بڑی مستعدی سے نئی بھرتیاں کر رہا ہے اور اس میں شامل ہونے والے کئی جنگجو طالبان سے ناخوش ہو کر اس میں شامل ہو رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طالبان کی کارروائیوں کی وجہ سے افغان فوجیوں کو اپنے پاؤں جمائے رکھنے میں مشکل کا سامنا ہے

ایران کی مدد کے بعد اب دونوں مخالف جہادی گروہ، طالبان اور دولتِ اسلامیہ، افغانستان میں ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے ہیں جس کے نتیجے میں شمالی صوبے ہلمند، مشرق میں ننگر ہار اور خاص طور پر ایران سرحد کے قریب واقع صوبہ فرح میں اس نئے جنگجو گروہ اور طالبان کے حمایت یافتہ طالبان کے درمیان مسلح ٹکراؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایران کی جانب سے مالی مدد کے بعد طالبان کو معاونت کے بہتر مواقع حاصل ہو گئے ہیں اور اس نئی مدد کے اثرات دونوں گروہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی چپقلش کی شکل میں بھی دکھائی دے رہے۔

طالبان امور اور افغانستان میں ایران کی مداخلت پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار انتونیو گستوزی کہتے ہیں کہ ’اگر ایران کی مدد نہ ہوتی تو میرا خیال نہیں کہ طالبان دولتِ اسلامیہ کے خلاف اس قسم کی کامیاب کارروائیاں کر سکتے۔‘

پچھلے سال کے مقابلے میں گذشتہ چند ماہ سے افغانستان کے مغربی اور شمالی علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال تیزی سے خراب ہوئی ہے اور اس دوران ان علاقوں میں طالبان کی کارروائیوں کی وجہ سے افغان فوجیوں کو اپنے پاؤں جمائے رکھنے میں مشکل کا سامنا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران کس حد تک طالبان کی مدد جاری رکھے گا۔

ایک افغان حکومتی اہلکار کے بقول ایرانی یہ نہیں چاہیں گے کہ ’ طالبان بہت مضبوط ہو جائیں۔ ایرانی صرف یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ لین دین کے لیے ان کے ہاتھ میں بھی کچھ ہونا چاہیے۔ اگر خدانخواستہ افغانستان میں طالبان کی مکمل جیت ہو جاتی ہے تو ایران کے ہاتھ میں یہ طاقت نہیں رہے گی۔‘

اسی بارے میں