گینگ ریپ کی شکار خاتون کو ’پاکیزگی‘ کے امتحان کا سامنا

گینگ ریپ کا شکار خاتون تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو بچوں کی ماں کو کئی ماہ تک گینگ ریپ کیا گیا

مغربی بھارت کی ریاست گجرات میں آٹھ ماہ تک لگاتار گینگ ریپ کی جانے والی خاتون نہ صرف اب حاملہ ہیں بلکہ ان کی مقامی برادری نے انھیں حکم دیا ہے کہ وہ پاکیزگی کا امتحان دیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار انکور جین اس صبر آزما رسم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ کیا ہے اور اسے کیوں اس دور میں بھی برداشت کیا جاتا ہے۔

شرمیلی، دھیرے دھیرے بولنے والی 23 سالہ لڑکی، جس کا نام قانونی وجوہات پر نہیں دیا جا سکتا، اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ سورت میں ہنسی خوشی رہ رہی تھیں۔ ان کی بدقسمتی اس وقت شروع ہوئی جب گذشتہ جولائی میں انھیں اغوا کر لیا گیا اور پانچ مردوں نے کئی مہینے انھیں گینگ ریپ کیا۔

اب وہ حاملہ ہیں اور گجرات ہائی کورٹ نے ان کی اسقاط حمل کی درخواست اس لیے رد کر دی ہے کیونکہ ان کا حمل آخری مراحل میں ہے۔

اب وہ گجرات کے گاؤں دیوالیے میں چھوٹے سے دو کمروں کے گھر میں اپنے دو بچوں کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ ان کے سسرال والوں نے انھیں اپنانے سے انکار کر دیا ہے اور اس وجہ سے ان کے شوہر نے بھی اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی بیوی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ لیکن وہ اپنا زیادہ وقت اپنے بچوں کے ساتھ ہی گزارتی ہیں۔

اگرچہ ان کے والدین انھیں اپنانے کو تیار ہیں لیکن ان کو بھی یہ تشویش ہے کہ آنے والا بچہ پورے خاندان کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔

ان کی ماں کہتی ہیں کہ ’میرے دو بچے ہیں اور دونوں غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر وہ بچے کو جنم دیتی ہیں اور اسے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو کوئی بھی ان سے شادی نہیں کرے گا۔ میرا 14 سالہ لڑکا برادری سے نکال دیا جائے گا۔ صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ’چوکھا تھوانی ودی‘ (پاکیزگی کی رسم) سے گزریں اور جو بھی برادری فیصلہ دے گی وہی آخری فیصلہ ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان کی ماں چاہتی ہیں کہ وہ اس رسم سے گزریں تاکہ پورا خاندان بحال ہو جائے

اس طرح کی رسمیں گجرات کی دیوی پوجک برادری کے دیہات میں ادا کی جاتی ہیں اور گینگ ریپ کا شکار خاتون اسی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔

دیوی پوجک گروہ بہت ہی کٹر اور ذات پات اور مذہبی نظام پر یقین رکھنے والا قبیلہ ہے اور اس کی برادری کی اپنی عدالتیں ہیں جو بے وفائی سے لے کر ریپ تک کے مسائل کے فیصلے بھی خود ہی کرتی ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ حکام ان عدالتوں کی کارروائیوں کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں، لیکن پولیس نے کبھی ان کی تحقیقات نہیں کیں۔

گاؤں کے ایک بزرگ اودھا بھائی دیوی پوجک کہتے ہیں کہ پاکیزگی کی رسم ایک مذہبی پیشوا ادا کرتے ہیں جو کالے علم اور وہ مافوق الفطرت طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں اور یہ آج کل کی عدالتوں اور پولیس سے بہت پہلے سے ہوتا آیا ہے۔

اس طرح کی رسم میں مذہبی پیشوا لڑکی سے مختلف قسم کے سوال کرتا ہے اور یہ جانچنے کے لیے کہ آیا وہ سچ بول رہی ہے یا جھوٹ، تھیلے سے جو کے دانے نکالتا ہے اور لڑکی سے پوچھتا ہے کہ اس کی مٹھی میں دانے طاق ہیں یا جفت۔

اگر لڑکی کا جواب غلط ہو تو مذہبی عالم سمجھتا ہے کہ اس سے کیے گئے دیگر سوالوں کے جوابات بھی جھوٹ پر مبنی تھے۔

اس کے بعد انھیں دس کلو کے ایک پتھر کو سر پر اٹھانا پڑتا ہے اور انھیں وہ اس وقت تک اپنے سر پر رکھنا پڑتا ہے جب تک مذہبی عالم مطمئن نہ ہو جائے کہ وہ سچ بول رہی ہیں۔

گاؤں کے بزرگ نے کہا کہ ’کبھی کبھار صفائی کے اس عمل میں مہینے لگ جاتے ہیں کیونکہ لوگ پہلے پہل جھوٹ بولتے ہیں لیکن دیوی سب کچھ جانتی ہے اور آخر کار انھیں سچ بولنا پڑتا ہے۔

’ایک مرتبہ جب لڑکی امتحان پاس کر لیتی ہے تو پھر کوئی بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتا اور نہ اس کے یا اس کے خاندان کا حقہ پانی بند کر سکتا ہے۔ لیکن اگر لڑکی امتحان میں فیل ہو جائے اور دیوی کہہ دے کہ وہ ناپاک ہے تو پھر اسے برادری سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دیوی پوجک برادری بڑی مذہبی برادری ہے

سردار سن موری، جو کہ متاثرہ خاتون کے خاندان کے دوست ہیں، کہتے ہیں کہ اس طرح کا امتحان صرف خواتین ہی کو دینا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی کسی شوہر کو اپنی بیوی پر شک ہوتا ہے یا کسی غیر شادی شدہ لڑکی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے کسی کے ساتھ تعلقات ہیں تو عورت کو پاک کرنے اور اسے اس کی خطاؤں سے آزاد کرنے کے لیے پاکیزگی کے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔

متاثرہ خاتون کے شوہر ریڑھی بان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہیں۔

’میں اس کے ساتھ رہوں گا۔ میرے دو بچے ہیں اور میں دوبارہ شادی نہیں کر سکتا۔‘

متاثرہ خاتون نے کہا ہے کہ ان کے دل کا ایک حصہ کہتا ہے کہ بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہیے لیکن بچے کی قسمت کا فیصلہ ان 100۔200 لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو پاک کرنے کی رسم میں شامل ہوں گے۔

’اگر میں غلط ہوئی تو دیوی انھیں بتا دے گی۔‘

اسی بارے میں