سرکاری ویب سائٹ شادی کے لیے، ڈیٹنگ کہیں اور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایک اندازے کے مطابق ملک میں رشتہ کروانے کی سہولت فراہم کرنے والی کل ویب سائٹس کی تعداد 350 ہے

ایران میں رشتے کروانے کے لیے سرکاری ویب سائٹ بنائی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو اس نئی ویب سائٹ کا آغاز کیا گیا جس کا کا مقصد ہزاروں غیر شادی شدہ ایرانیوں کی شادی کروانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ ویب سائٹ ’ڈیٹنگ سروس‘ نہیں ہے۔

ایران کے نائب وزیر برائے نوجوان و کھیل محمد گلزاری نے ویب سائٹ کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ غیر شادی شدہ افراد ہیں اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے روایتی سماجی نظام کا ایک اہم مسئلہ ہے۔

Hamsan.Tebyan.net کنوارے لوگوں کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنے کوائف پوسٹ کر سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ انھیں کس قسم کے ساتھی کی ضرورت ہے۔

دوسرے مرحلے میں ایک ثالث بورڈ شادی کے خواہش مند افراد کی عمر، تعلیم، خاندان اور دولت سمیت دیگر کوائف کو چیک کرے گا۔

محمد گلزاری نےوضاحت کی کہ یہ ویب سائٹ ڈیٹنگ کے لیے نہیں ہے۔

’آپ رشتہ کروانے کی جو ویب سائٹ آج دیکھ رہے ہیں یہ لڑکوں اور لڑکیوں کا آپس میں تعارف کروانے کے لیے نہیں ہے۔‘

کئی سال تک آبادی کو کنٹرول کرنے کی کامیاب پالیسیاں چلانے کے بعد اب ایران کی آبادی آٹھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت شادی کرنے اور زیادہ بچے پیدا کے لیے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ حکومت کو خوف ہے کہ عمر رسیدہ آبادی ملک کی سماجی ترقی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ایران نے اب نس بندی کے لیے دی جانے والی فنڈنگ اور مانع حمل ادویات کی فراہمی روک دی ہے۔

حکومت نئے شادی شدہ جوڑوں کو کم سود پر قرض اور نئے والدین کو نقد رقم ادا کررہی ہے۔

دوسری جانب روایتی طور پر ایران میں رشتے کروانے والے مقامی لوگوں میں حالیہ برسوں میں کمی دیکھنے کو آئی۔

ایک اندازے کے مطابق ملک میں رشتہ کروانے کی سہولت فراہم کرنے والی کل ویب سائٹس کی تعداد 350 ہے۔

ایرانی علماء افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ نوجوان شادی کے بجائے طویل عرصے تک غیر رسمی تعلقات نبھاتے ہیں۔

مگر اس کی ایک وجہ ایران پر لگنے والی معاشی پابندیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کے لیے شادی کرنا اور گھریلو زندگی کا آغاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایرانی خاندان پرتعیش شادیوں کی توقعات رکھتے ہیں مثلاً اگر دلہن شادی پر مہنگا لباس نہ لے تو اس کا خاندان اسے مجبور کرتا ہے کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ایسا نہ کیا تو لوگ باتیں بنائیں گے۔