کشمیر میں پراسرار ہلاکتوں سے خوف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ چند روز میں چار شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے ضلع بارامولا کے قصبے سوپور میں پراسرار ہلاکتوں کی تازہ واردات میں پیر کی صبح نامعلوم اسلحہ برداروں نے اعجاز احمد ریشی نامی شہری کو گھر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اتوار کی صبح کو بھی اسی طرح معراج الدین نامی شہری کو قتل کیا گیا۔ گذشتہ چند روز میں ایسے چار افراد کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا جن کا ماضی میں مسلح مزاحمت کے ساتھ تعلق رہا ہے۔

اس سے قبل لشکر اسلام نامی گروپ نے دو ایسے شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی جنھوں نے موبائل فون کے ٹاور اپنی زمین میں نصب کروائے تھے۔ لشکر اسلام کا کہنا تھا کہ مواصلات کی جدید سہولات کو حکومت ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

تاہم گذشتہ چند روز میں چار شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

اگرچہ ان ہلاکتوں کا دائرہ ابھی سوپور تک ہی محدود ہے تاہم ٹارگٹ کلنگ کے نئے رجحان نے پوری وادی کو خوفزہ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سوپور کی صورتحال پر وزیراعلیٰ مفتی سعید نے ابھی تک لب کشائی نہیں کی

پولیس کے سربراہ کے راجندرا کا اصرار ہے کہ مسلح تنظیموں کے درمیان بالادستی کی کشکمش کے نتیجے میں گروہی تصادم ہو رہے ہیں اور یہ ہلاکتیں اسی کا نتیجہ ہیں۔ تاہم انھوں نے اعلان کیا ہے کہ ان وارداتوں کی تحقیقات جاری ہیں اور عنقریب اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب سید علی گیلانی اور مسلح تنظیموں کے اتحاد جہادکونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے ان ہلاکتوں کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ صلاح الدین نے ان ہلاکتوں میں ملوث افراد کو ’سزا‘ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

سید علی گیلانی نے ایک بیان میں کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’مفتی سعید کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ وہ اگر اب بھی کُرسی سے چمٹے رہے تو لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے بنائے گئے قتل کے ان منصوبوں میں وہ ان کے اعانت کار ہیں۔‘

واضح رہے مفتی سعید کشمیر میں تعینات تمام فوجی، نیم فوجی اور سراغ رساں اداروں کے ’یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز‘ کے چیئرمین ہیں۔ انھوں نے قیام امن سے متعلق مقامی حکومت کی بے بسی کے بارے میں پوچھے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: ’میں یونیفائڈ ہیڈکوارٹر کا سربراہ ہوں۔ میرے پاس معلومات ہیں، مجھے معلوم ہے کیسے امن قائم ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹارگٹ کلنگ کے نئے رجحان نے پوری وادی کو خوفزہ کر دیا ہے

تاہم سوپور کی صورت حال پر انھوں نے ابھی تک لب کشائی نہیں کی ہے۔ حالانکہ ان کے حریف عمر عبداللہ نے سلامتی کی اسی بگڑتی صورت حال پر احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر میں 20 ہزار سے زائد ایسے شہری ہیں جن کا ماضی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلح مزاحمت کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ ان میں سے بیشتر نے طویل قید کاٹنے کے بعد خاندانی زندگی کو ترجیح دی، تاہم ایک بڑی تعداد غیر مسلح جہدوجہد کے لیے علیحدگی پسندوں کی صفوں میں شامل ہو گئے۔

سوپور میں پراسرار قتل کی وارداتوں میں سابقہ مزاحمت کاروں کی ہلاکت سے ان سبھی حلقوں میں خوف کی لہر پھیل گئی ہے۔

اتوار کی شب سید علی گیلانی نے اعلان کیا اس صورت حال کے سدباب کے لیے وہ حکمت عملی وضع کریں گے، لیکن پیر کی صبح قتل کی ایک اور واردات رونما ہو گئی۔

اسی بارے میں