’افغان طالبان سب راستے کھلے رکھنا چاہتے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان میں کافی عرصے سے طالبان کے وفود بیرون ملک دوروں میں مصروف ہیں تاہم اس سلسلے میں حالیہ کچھ عرصے سے تیزی دیکھی جا رہی ہے اور کبھی ان کے چین تو کبھی ایران کے دورے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔

اس کی وجہ آخر ہے کیا؟ کیا طالبان کی سوچ یا موقف میں کسی بڑی تبدیلی کے اشارے ہیں؟

جہاں ایک جانب طالبان کی پرتشدد کارروائیاں بھی بڑھی ہیں تو دوسری جانب وہ اب بات چیت کے ذریعے بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے میں ماضی سے قدرے زیادہ دلچسپی بھی لے رہے ہیں۔

طالبان کا ایک تین رکنی وفداوسلو میں ایک کانفرنس میں بھی شریک ہوا ہے۔

ایک تازہ بیان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں کیونکہ یہ اپنی قوم کی مشکلات سے دنیا کو آگاہ کرنے کا اچھا موقع ہے۔

تاہم انہوں نے کابل حکومت کے ساتھ اس کانفرنس کے دوران کسی براہ راست بات چیت سے انکار کیا ہے۔

غزنی سے تعلق رکھنے والے طالبان حکومت کے کراچی میں سابق قونصل جنرل رحمت اللہ کاکازادہ بھی گزشتہ چار برس سے افغان قضیے کا مذاکرات کے ذریعے حل کے فارمولے پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اختلافات کو دور کیا جا سکتا ہے۔

’ایک بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ یہ جنگ بیرونی مداخلت کے خلاف تھی۔ طالبان کا اصرار ہے کہ بیرونی جارحیت ختم کی جائے اور اتفاق رائے سے ایک اسلامی، سیاسی اور اقتصادی نظام بنایا جائے تو معاملہ طے ہوسکتا ہے۔‘

سینیئر افغان صحافی اور ہفتہ وار جریدے نیوز ویک کے نامہ نگار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ طالبان کو بھی سمجھ آ رہی ہے کہ شاید یہ تنہائی زیادہ عرصہ نہیں اب چل پائے گی۔

’پہلے وہ امریکیوں سے ملنے سے انکار کرتے رہے پھر مسلسل رابطے ہوگئے، پھر یورپی ممالک کے ساتھ رابطے ہوئے، وہ چاپان اور فرانس بھی چلے گئے۔ وہ اب چاہتے ہیں کہ سب چینل کھلے رکھیں۔‘

لیکن بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں طالبان کے مذاکرات کے راستے مسئلے کے حل پر قدرے زیادہ رضامندی کی اصل وجوہات کچھ اور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک تو پاکستان کا دباؤ اور حمایت یا مدد سے ہاتھ کھینچنا، دوسرا افغان سکیورٹی فورسز کا خدشات کے باوجود مستحکم رہنا اور تیسرا دولت اسلامیہ کا نیا شاخسانہ اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔

ایسے میں مولوی رحمت اللہ کاکازادہ کا کہنا ہے کہ طالبان کو بھی اس بات کا احساس ہوا ہے کہ وہ افغانستان پر مکمل کنٹرول کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتے۔

مولوی رحمت اللہ کے خیال میں اکثر معاملات پر فریق متفق ہیں لیکن 20 سے 25 ایسے موضوعات ہیں جہاں اختلاف سامنے آ سکتے ہیں۔

’دو فہرستیں بننی چاہییں۔ ایک وہ جن پر فریق متفق ہیں اور جن پر نہیں۔ پھر ایک غیر متنازع افراد کا کمیشن ان پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کرے۔ اس سے قومی اتفاق پیدا ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ملک میں کونسا نظام ہو، یہ جمہوری ہونا چاہیے، خلافت ہونی چاہیے یا پھر امارات۔ شراکت اقتدار کا تناسب کیا ہونا چاہیے؟ کس کو کتنا حصہ ملنا چاہیے، قوموں کی بنیاد پر یا تنظیموں کی بنیاد پر اس کا فیصلہ ہو۔‘

اس سوال پر کہ جمہوریت اور شریعت جیسے حساس معاملات پر تو فریقین ایسی پوزیشن لیے ہوئے ہیں کہ اس سے ہٹنا ممکن دکھائی نہیں دیتا؟ مولوی رحمت اللہ کا ماننا تھا کہ نظام کے اعتبار سے گومگو کی کیفیت ہے۔

’جیسی جمہوریت پاکستان میں ہے یا مصر میں وہ کوئی اچھی سمت نہیں دے رہی ہے۔ اگر کسی کو یہ احساس ہے کہ جمہوریت کسی بہتری کی ضامن ہے تو یہ غلط فہمی ہے۔‘

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ طالبان نے اپنی ایک تحقیق میں کہا ہے کہ افغانستان کا 97 فیصد آئین اسلام کے مطابق ہے۔ تین فیصد فروعی مسائل ہیں جن پر بات ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر وہ ایک مرتبہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں تو ان تین فیصد پر بھی کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔‘

تاہم رحمت اللہ کاکازادہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس نظام پر بھی کام کیا ہے اور ایک خاکہ بنایا ہے۔ ’اس میں انتخابات بھی ہیں لیکن موجودہ قباحتوں کو دور کر کے۔ اگر اس مجوزہ نظام پر کام ہو تو بہتر نظام سامنے آ سکتا ہے۔‘

رحمت اللہ کاکازادہ سے جب پوچھا گیا کہ اس مجوزہ امن منصوبے پر فریقین کا کیا ردعمل ہے اور کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس بابت طالبان کا ردعمل مثبت تھا۔

’حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کو بھی بھیجا تھا۔ بین الاقوامی برادری اور خصوصا اقوام متحدہ سے بھی بات ہوئی ہے۔ حالیے رابطوں کے دوران نجی محفلوں میں اس تجویز پر بات ہوئی ہے۔ امید ہے کہ اتفاق رائے ہو جائے گا۔‘

رحمت اللہ جو طالبان تحریک کے کافی قریب رہ چکے ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب اتفاق رائے قائم ہوجائے تو ایک لویہ جرگہ طلب کیا جائے۔

’یہ جرگہ ماضی کے جرگوں سے مختلف اور حقیقی ہوگا۔ لیکن پہلے اتفاق رائے غیرملکی افواج کے انخلا سے متعلق ہونا چاہیے۔ ایک مدت کا تعین ہو اور پھر بعد کے میکینزم پر بات ہوگی۔‘

اسی بارے میں