کشمیر: ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہڑتال، دکانیں اور سکول بند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر کی علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں میں سرکاری خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے میں کی جانے والی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف علیحدگی پسند کشمیری جماعتوں نے ہڑتال کا اعلان کیا جس کے باعث جموں و کشمیر میں تجارتی مراکز اور سکول بند ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سری نگر میں سکیورٹی فورسز گشت کر رہی ہیں جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر سرکاری ملازمین بھی دفاتر نہیں گئے۔

کشمیر میں پراسرار ہلاکتوں سے خوف

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے سوپور کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان واقعات میں شدت پسند ملوث ہیں اور چاروں افراد کو پیچھے سے سر پر قریب سے گولیاں ماری گئی ہیں۔

تاہم کشمیر کے علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں میں سرکاری خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔

اے پی کی رپورٹ کے مطابق علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے چار افراد کو مارا گیا ہے اس سے واضح ہے کہ ان واقعات میں ’اخوانی‘ ملوث ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کی سرپرستی حاصل ہونے والے شدت پسندوں کو اخوانی کہتے ہیں اور اخوانیوں نے 90 کی دہائی میں سینکڑوں جنگجو اور دیگر افراد قتل کیے تھے۔

پچھلے ہفتے سوپور میں ایک مشہور علیحدگی پسند کشمیری کارکن کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دو سابق جنگجوؤں اور ایک علیحدگی پسندی کے حمایتی کو ہلاک کیا گیا۔

علیحدگی پسند کشمیریوں کی جانب سے جمعے کو سوپور میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔

.

اسی بارے میں