اڈوانی کے ’ایمرجنسی‘ کے متعلق بیان پر سوشل میڈیا پر ہلچل

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption کچھ ٹوئٹر صارفین کے خیال میں ایل کے ایڈوانی کی حالیہ آرا کا تعلق ان کی اپنی پارٹی کی وفاقی حکومت سے ہوسکتا ہے

بھارتی سیاستدان ایل کے اڈوانی کی ملک میں شہری حقوق کے متعلق بیان پر سوشل میڈیا میں دو مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے ایل کے اڈوانی نے کہا تھا کہ بھارت میں ’جمہوریت کے عزم اور جہموریت سے متعلق دیگر پہلوؤں کی کمی پائی جاتی ہے۔‘

سنہ 1974 میں اندرا گاندھی نے ملک میں انتخابات معطل کر دیے اور شہری حقوق سلب کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

ایل کے ایڈوانی نے اخبار کو بتایا: ’آج، میں یہ نہیں کہتا کہ سیاسی لیڈرشپ بالغ نہیں ہے۔ لیکن خامیوں کی وجہ سے ان پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ مجھے اتنا بھروسہ نہیں ہے کہ ایسا (ایمرجنسی) دوبارہ نہیں ہو سکتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی خیال ہے کہ ’موجود دور میں آئینی اور قانونی تحفظات کے باوجود وہ قوتیں جو جمہوریت کو تباہ کرسکتی ہیں پھر بھی مضبوط ہیں۔‘

ایل کے اڈوانی کا شمار بھارتی سیاست کی طاقتور شخصیات میں ہوتا ہے۔ انھیں اُن کی انتظامی مہارت کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور بھارتیہ جتنا پارٹی کو سیاسی قوت کے طور پر ابھارنے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2014 میں ایل کے ایڈوانی نے تمام پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا

87 سالہ ایل کے اڈوانی نے سنہ 1984 میں پارلیمنٹ میں اس پارٹی کی دو نشستوں سے اسے 15 سال میں اقتدار تک پہنچا دیا۔

بہرحال اب ایل کے ایڈوانی نئے آنے والے سیاست دانوں، مثلاً نریندرمودی، کی وجہ سے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی حکومتی معاملات کو مطلق العنانی سے چلانے کی شہرت رکھتے ہیں۔

سنہ 2014 میں ایل کے ایڈوانی نے تمام پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بظاہر وہ بی جے پی میں نریندرمودی کے ابھر کر سامنے آنے پر نالاں تھے۔ تاہم انھوں نے بعد میں سینیئر پارٹی رہنماؤں کے دباؤ پر استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔

کچھ ٹوئٹر صارفین کے خیال میں ایل کے اڈوانی کی حالیہ آرا کا تعلق ان کی اپنی پارٹی کی وفاقی حکومت سے ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
تصویر کے کاپی رائٹ twitter

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال، جو نریندرمودی کی وفاقی حکومت کے مخالف ہیں، سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا دارالحکومت ان کا ’پہلا تجربہ‘ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

تاہم دیگر افراد ایل کے اڈوانی کے بیان سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تاحال ’پارٹی میں مودی کے عروج سے پریشان ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
تصویر کے کاپی رائٹ twitter

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایل کے اڈوانی کے بیان کا تعلق نریندر مودی سے بالکل نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter

اسی بارے میں