نیپالی پہاڑ کسانوں اور سیاحوں کی پہنچ سے دور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوگ واپس پہاڑوں پر جانے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں پھر زلزلہ نہ آ جائے

نیپال کے پہاڑوں میں آج کل خاموشی گونج رہی ہے کیونکہ سینکڑوں ہزاروں افراد اپنے دیہات کو واپس جانے کی امید لیے بیٹھے وادیوں میں انتظار کر رہے ہیں۔

25 اپریل کو ایک بڑے زلزلے کے بعد تودے گرنے سے ان کے خاندانوں کے خاندان دب گئے تھے اور بستیاں تباہ ہو گئی تھی جس کے بعد ان کو وہاں سے جانا پڑا تھا۔

پہاڑوں میں گہری دراڑوں اور شگافوں نے بھی لوگوں کو ان سے دور رکھا۔

نیپالی کسان کرما سنگھ نے تودے گرنے کی وجہ سے تباہ ہونے والے ایک گاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہتے ہیں کہ ’ان میں سے کچھ شگاف ایسے تھے آپ نہ صرف ان میں سے نکل سکتے تھے بلکہ اگر آپ ان میں گر جائیں تو آپ کا جسم گہری کھائی میں کہیں غائب ہو جائے گا۔‘

سائنس دانوں نے زلزلے کی وجہ سے پہلے ہی تین ہزار لینڈ مٹی کے تودے ریکارڈ کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ مون سون کی بارشوں کی وجہ مزید تودے گر سکتے ہیں۔

تاپلے جنگ ڈسٹرکٹ میں گذشتہ ہفتے مون سون کی بارشوں کی وجہ سے آنے والی ایک بڑی لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے تقریباً 40 لوگ ہلاک ہو گئے تھے، اور ابھی تاپلے جنگ میں زلزلہ ابھی اتنی شدت سے نہیں آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زلزلے اور تودے گرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ بے گھر ہوئے ہیں

ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ ان پہاڑوں پر بارشوں کا بہت زیادہ اثر ہو گا جو زلزلے سے براہ راست متاثر ہوئی ہیں۔

25 اپریل کو آنے والے زلزلے اور اس کے بعد 12 مئی کو آنے والے بڑے جھٹکے کا مرکز نیپال کے مرکز میں پہاڑوں میں ہے۔

تبت کے ساتھ ملحق راسوا ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں ہاکو میں مقامی رہنما ساراسوتی تمانگ کہتے ہیں کہ جب یہ سب کچھ بلند ہمالیہ کے ساتھ ہوا تو اندازہ کریں اس کے نیچے پہاڑی سلسلے کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔

’ان لینڈ سلائیڈوں اور شگافوں نے ہمارے لینڈ سکیپ کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم کس طرح ان جگہوں پر واپس جائیں گے اور اپنے گھروں کو بنائیں گے اور کھیتی باڑی کریں گے۔

غیر ملکی امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مشکل جغرافیائی حالات کی وجہ سے پہاڑی ڈھلوانوں ایک مرتبہ پھر قابلِ رہائش اور قابلِ کاشت بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

اس زلزلے میں کئی سیاح بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ غیر ملکیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں لینگ تانگ وادی کے راسوا ڈسٹرکٹ میں ہوئیں جو ٹریکنگ کے لیے اہم علاقہ ہے۔

سانگبو تمانگ یہاں وادی کا سب سے بڑا ہوٹل چلاتے تھے۔

جب زلزلہ آیا اور ان کا ہوٹل تباہ ہوا اس وقت وہ کاروبار کے سلسلے میں کہیں اور گئے ہوئے تھے۔

انھوں نے کٹھمنڈو کے ایک کیمپ میں کہا کہ ’ہم بودھ خانقاہوں کو سب سے زیادہ چندہ دیتے تھے اور اب ہمی خوراک اور پناہ کے لیے چندہ مانگ رہے ہیں۔‘

مغربی نیپال کے آناپورنا علاقے میں زیادہ نقصان تو نہیں ہوا لیکن کچھ پہاڑوں پر لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے لوگوں میں تشویش ضرور پیدا ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اناپورنا ٹریکنگ کے لیے بہت مشہور علاقہ ہے لیکن آج کل یہاں سیاح بہت کم نظر آتے ہیں

گذشتہ ماہ زلزلے کے بعد میں آنے والے جھٹکوں سے میاگدی ڈسٹرکٹ کے علاقے میں ایک چھوٹی لینڈ سلائیڈ آئی جس سے دریائے کالی گانڈکی کا بہاؤ رک گیا۔ یہ دریا جا کے دریائے گنگا سے ملتا ہے۔

اس کی وجہ سے نیچے بستیوں کو خطرہ پیدا ہو گیا لیکن دریا میں ایک چھوٹا سا شگاف پڑا اور لینڈ سلائیڈ کے بعد بننے والی جھیل خالی ہونا شروع ہو گئی۔

تاہم چھوٹی موٹی لینڈ سلائیڈیں اب بھی بڑا خطرہ ہیں اور مون سون کی وجہ سے اور بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔

برتھوی نارائن کیمپس کے ساتھ منسلک جغرافیہ دان پروفیسر بسووشیراستھا کہتے ہیں کہ ’لینڈ سلائیڈز کے علاوہ زلزلوں کی وجہ سے پہاڑوں میں دراڑیں بھی پڑ گئی ہیں۔

’علاقے میں پہاڑوں کی کم گرفت والی ساخت کی وجہ سے یہاں زلزلوں کے ایسے اثرات ہوتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ اس طرح کے خطرات کی شناخت کریں اور لوگوں کو محفوظ رکھیں۔‘

حکومت نے کٹھمنڈو کی وادی میں یونیسکو کے عالمی ورثے والے چند مقامات تو عوام کے لیے کھول دیے ہیں لیکن پہاڑوں پر اب بھی لوگ نہیں جا سکتے اور وہ وہاں جانے سے خوف زدہ ہیں۔

پاکھورا شہر سیاحوں کا مرکز ہے اور یہاں سے وہ اناپورنا کے علاقے میں جاتے ہیں۔ یہ عام طور پر سیاحوں سے بھرا ہوتا ہے لیکن اب اس کی سڑکیں ویران پڑی ہیں اور بہت کم ہی سیاح یہاں نظر آتے ہیں۔

ان میں سے ایک شمالی آئرلینڈ آرون میک کی ہیں۔ وہ گذشتہ ماہ سے اس علاقے میں ٹریکنگ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی حفاظت کی کوئی تشویش نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اناپورنا سرکٹ اور اناپورنا بیس کیمپ واپس آنا چاہیے، وہ کھلے ہیں اور وہ سب بہت اچھے ہیں۔

اسی بارے میں