کشمیر: مظاہروں کے دوران رمضان کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

شمالی کشمیر کے سوپور علاقہ میں علیحدگی پسند کارکنوں اور سابق شدت پسندوں کی پراسرار ہلاکتوں کے خلاف جمعہ کے روز 50 کلومیٹر مسافت والےعوامی مارچ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پولیس نے تمام علیحدگی پسند رہنماؤں اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار یا گھروں میں نظربند کر دیا۔

اس مارچ کی اپیل سید علی گیلانی، میر واعظ عمرفاروق اور یاسین ملک نے مشترکہ طور پر کی تھی۔

مارچ کو ناکام بنانے کےلیے سوپور اور سری نگر کے بیشتر علاقوں میں سخت ناکہ بندی کی گئی ہے۔ رمضان کا پہلا دن ہونے کے باوجود وادی کے بیشتر علاقوں میں بھارتی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو تعینات کیاگیا اور لوگوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنا دیا گیا۔

سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور شہر کی دوسری مساجد اور خانقاہوں میں جمعے کے اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔

میر واعظ عمر فاروق نے حکام کے رویے کو مذہبی جبر قرار دے کر کہا ہے کہ حکومتِ ہند کشمیریوں کو مذہبی فریضہ ادا کرنے سے روک رہی ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کئی نوجوانوں نے عوامی مارچ کے دوران تخریبی کارروائیوں کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ کئی مقامات پر پاکستانی پرچم لہرانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے بعض نوجوانوں کو جمعرات کو ہی پاکستانی پرچم سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے اپنے گھر کے باہر پولیس کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تو انھیں ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیاگیا۔ یاسین ملک کو پہلے ہی حراست میں لیاگیا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ اور دوسرے رہنماؤں کو گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ سیبوں کی کاشت اور بھارت مخالف جذبات کے لیے مشہور سوپور قصبہ میں 25 مئی سے ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو 16 جون تک جاری رہا۔ اس عرصہ میں موبائل فون کی کمپنیوں کے لیے اپنی زمینوں میں ٹاور نصب کرنے والے دو شہریوں اور علیحدگی پسند تنظیموں کے کارکنوں اور سابق شدت پسندوں سمیت چھ افراد مارے گئے۔ علیحدگی پسندوں اور مسلح گروپوں نے ان ہلاکتوں کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

جہاد کونسل، لشکر طیبہ اور جیش محمد نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی اور قصور واروں کو سزا دینے کا اعلان کیا۔ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا جس میں مسٹر پاریکر نے کہا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے دہشت گردوں کو استعمال کیا جائے گا۔

اسی دوران سوپور میں لشکر اسلام نامی غیرمعروف مسلح گروپ کا نام بھی سامنے آیا۔ اسی گروپ نے موبائل فون ٹاورز نصب کرنے کے لیے زمین دینے والوں کو متنبہ کیا اور بعد میں دو افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی۔

لشکر اسلام کا کہنا تھا کہ مواصلات کی جدید سہولت کو حکومت ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ لیکن جہاد کونسل کے سربراہ صلاح الدین نے اس گروپ پر سکیورٹی فورسز کا اعانت کار قرار دیا ہے۔

پولیس کے سربراہ کے راجندر کا اصرار ہے کہ یہ مسلح تنظیموں کے درمیان بالادستی کی کشمکش کے نتیجے میں گروہی تصادم ہو رہے ہیں اور یہ ہلاکتیں اسی کا نتیجہ ہے۔ تاہم انھوں نے اعلان کیا ہے کہ ان وارداتوں کی تحقیقات جاری ہیں اور عنقریب اس میں ملوث افراد کوگرفتار کیا جائے گا۔

ان ہلاکتوں کےخلاف گذشتہ بدھ کے روز علیحدگی پسندوں نے مکمل ہڑتال کی مشترکہ اپیل کی اور جمعے کے روز ’سوپور چلو‘ کے عوامی مارچ کا اعلان کیا۔ لیکن حکومت نے جمعرات سے ہی سوپور جانے والی تمام شاہراہوں کی ناکہ بندی کی اور تمام علیحدگی پسندوں اور ان کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ مفتی سعید کشمیر میں تعینات تمام فوجی، نیم فوجی اور سراغ رساں اداروں کے ’یونیفائڈ ہیڈکوارٹرز‘ کے چیئرمین ہیں۔ انھوں نے قیام امن سے متعلق مقامی حکومت کی بے بسی کے بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: ’میں یونیفائڈ ہیڈکوارٹر کا سربراہ ہوں۔ میرے پاس معلومات ہیں، مجھے معلوم ہے کیسے امن قائم ہو گا۔‘

تاہم سوپور کی صورت حال پر انھوں نے ابھی تک لب کشائی نہیں کی ہے۔ حالانکہ ان کے حریف عمرعبداللہ نے انھیں سلامتی کی بگڑتی صورتحال پر احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر میں 20 ہزار سے زائد ایسے شہری ہیں جن کا ماضی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلح مزاحمت کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ ان میں سے بیشتر نے طویل قید کاٹنے کے بعد خاندانی زندگی کو ترجیح دی۔ تاہم ایک بڑی تعداد غیرمسلح جہدوجہد کے لیے علیحدگی پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔ سوپور میں پراسرار قتل کی وارداتوں میں سابقہ جنجگوؤں کی ہلاکت سے ان سبھی حلقوں میں خوف کی لہر پھیل گئی ہے۔

جمعے کے روز کئی علاقوں میں نوجوانوں نے سکیورٹی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کر کے انھیں منتشر کردیا۔

اسی بارے میں