ممبئی میں زہریلی شراب ’فراہم کرنے والا‘ دہلی سے گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ ہفتے ممبئی میں زہریلی شراب پینے سے ایک سو زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے ممبئی میں زہریلی شراب فراہم کی تھی۔

گذشتہ ہفتے ممبئی میں زہریلی شراب پینے سے ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق ایک 26 سالہ شخص نے ہمسایہ ریاست گجرات سے الکوحل سمگل کی اور ممبئی میں مقامی ڈیلروں کو فراہم کی تھی۔ جس کے بعد ممبئی میں غیرقانونی شراب کے ٹھیکوں پر فروخت کی گئی۔

زہریلی شراب پینے کے حالیہ واقعے میں 102 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ 40 دیگر زہر سے متاثرہ افراد ہسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔

اس واقعے کے بعد ممبئی میں ایک خاتون سمیت سات افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زہریلی شراب فراہم کرنے والے مرکزی سپلائر لطیف خان ممبئی سے بھاگ کر دہلی آگئے تھے جہاں وہ ایک دوست کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس حکام نے بتایا: ’تفتیش کے دوران ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ مبینہ شخص غیرقانونی شراب گجرات کے شہر احمدآباد سے حاصل کرتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بھارت میں ماضی میں بھی زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں

واضح رہے کہ بھارتی ریاست گجرات واحد ریاست ہے جہاں الکوحل پر قانونی طور پر پابندی عائد ہے۔

عموماً اس شراب کو زیادہ نشہ آور بنانے کی کوشش میں اس میں کیمیائی اجزا ملا دیے جاتے ہیں جو بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔

بھارت میں ماضی میں بھی زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

سنہ 2012 میں مغربی بنگال میں بھی دیسی زہریلی شراب پینے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے قبل سنہ 2009 میں بھی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں زہریلی شراب زہریلی شراب نے 107 افراد کی جان لے لی تھی۔

اسی بارے میں