بیٹیوں کے ساتھ سیلفی کا انوکھا مقابلہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ سےسیلفي ہے دہلی کے امار ڈاگر اور ان کی بیٹی پلک کی ہے ، جن کا نام فاتحین میں شامل ہے

بھارت کی ریاست ہریانہ کے ایک گاؤں میں لڑکیوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک منفرد مقابلہ منعقد کیا گیا۔

یہ مقابلہ تھا اپنی بچی کے ساتھ سے سیلفي كھينچیے اور انعام حاصل کیجیئے۔

ہریانہ کے پیر پور گاؤں کے بزرگوں نے اس مقابلے کا انعقاد کیا تھا۔

اس مقابلے میں ملک بھر سے قریب 800 درخواست موصول ہوئیں۔

فوٹو گرافر مانسي تھپليال نے اس مقابلے میں حصہ لینے والوں سےبات کی۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے اس مقابلے میں جیتنے والوں کو ٹرافی، سرٹفیکیٹ اور اکیس سو روپے انعام میں دیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption امت اپنی بیٹی کو اچھا مستقبل دینا چاہتے ہیں

ہریانہ کے امت اور ان کی بیوی ریتا نے اپنی بیٹی ونشكا کھا کے ساتھ سیلفي لی۔ فاتحین میں شامل امت کہتے ہیں میری بیٹی پانچ سال کی ہے اور میں اسِے بہترین تعلیم دینا چاہتا ہوں۔

ہریانہ بھارت کی ایسی ریاست ہے جہاں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے کم ہے 1،000 مردوں کے مقابلے 877 خواتین ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس کی وجہ ہے غیر قانونی طور ماں کی کوکھ میں بچیوں کا قتل، والدین کی جانب سے انہیں مناسب توجہ نہ ملنا اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہریانہ کے بھوپ سنگھ اپنی بیٹیوں تانیا اور سارہ کے ساتھ

گاؤں کے باشندے دھرمیندر نے اپنی پانچ ماہ کی بیٹی کے ساتھ تصویر بھیجی ان کا کہنا ہے کہ ’یہ لڑکیوں سے اپنی محبت دکھانے کا ایک طریقہ ہے. وہ لڑکوں کے برابر ہیں‘۔

بي بي پور کی پنچایت نے فرمان جاری کر کہا ہے کہ ماں کی کوکھ میں لڑکی ہونے کی صورت میں اسقاطِ حمل کرانےکو قتل کی طرح لیا جائے گا۔

یہ بہت بڑی بات ہے کہ یہاں کھاپ پنچایت کی سربراہ ایک عورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption ریاست ہریانہ میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی تعداد کم ہے

اس مہم میں شامِل جگلان کہتے ہیں کہ واٹس ایپ پر پورے ملک 800 سیلفي موصول ہوئی تھیں۔

انکا کہنا تھا کہ ’ آج کل سیلفي لینا نیا چلن ہے، لہذا ہمیں یہ آئیڈیا اچھا لگا کہ تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس طرح اپنی بیٹیوں کی تصویر لینے کے لیے والدین کی حوصلہ افزائی کی جائے‘۔

گیارہ سال کی تنو نے اپنی دادی شیلا کے ساتھ ایک تصویر مقابلے میں بھیجی۔ تنو پولیس افسر بننا جانا چاہتی ہیں۔

بي بي پور خواتین کے معاملے میں ہریانہ کا سب سے لبرل گاؤں ہے۔

اس کے دروازے پر لکھا ہے، ’خواتین کا گاؤں‘۔

اسی بارے میں