دھان کے کھیت یا کسی فنکار کی تخلیق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ منظر چین کے شہر شین یانگ کے کھیتوں میں نظر آتا ہے

چین میں دھان (چاول) کے کھیتوں میں 3 ڈی انداز میں بنائے گئے نقش و نگار کسی کو بھی دنگ کر سکتے ہیں۔

چین کے شمال مشرقی صوبے لياؤننگ میں کسانوں نے 3 ڈی جیسا نظارہ پیدا کرنے کے لیے مختلف رنگوں اور دھان کی مختلف قسموں کا استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سیاحوں کو اپنے شہر کی جانب متوجہ کرنے کی غرض سے شین یانگ کے کسان یہ فنکاری کرتے ہیں

یہ کھیت شین يانگ شہر میں واقع تھیم پارک کا حصہ ہیں۔ یہاں شادی بیاہ اور سیاحوں کے لیے کیمپنگ اور دوسرے قسم کی تقریبات کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔

در اصل چین کے مقامی شيبو کسان ہر سال روایتی طور پر کھیتوں میں اس طرح سے دھان کے پودے لگاتے ہیں کہ ان میں ایک خاص پیٹرن نظر آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ rexfeatures
Image caption اس کے علاوہ ان فنکاری کے پس پشت ان کا خیر سگالی کی دعا دینے کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے

کھیتوں میں فنکارانہ طریقے سے دھان لگانے کے مقاصد میں نیک خواہشات کی دعا بھی شامل ہے۔

یہ تصویر کشی چین کی اساطیری دیوی ناجھا کی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ کسان اپنے دیوتا کی تصویر کشی بھی کرتے ہیں

گذشتہ سال ان کسانوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معروف مقامات، جانوروں اور انسانوں کی تصوری کشی کی تھی اور 13 جاذب نظر تصویریں بنائی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وہ اپنے دیوتا ناجھا کے علاوہ انسانوں اور جانوروں کی عکاسی کرتے ہیں

یہاں تک کہ انھوں نے اپنے کھیتوں میں چینی دیوتا نیجھا کی تصویر بھی پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

حکام کو امید ہے کہ اس سال پیش کیے جانے والے یہ 3 ڈی رائس آرٹ زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کریں گے اور شینيانگ شہر آنے کے لیے تحریک دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وہ ان تصاویر کے لیے مختلف رنگ اور اقسام کے بیجوں کا استعمال کرتے ہیں

دھان کے کھیتوں میں دنیا میں کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی پینٹنگ کے لیے سنہ 2012 میں یہ کسان عالمی ریکارڈ بھی بنا چکے ہیں۔

اسی بارے میں