’جوہری مذاکرات ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، چین اور روس چاہتے کہ جوہری معاہدے کی مدد سے ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کیا جا سکے

امریکہ کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری مذاکرت 30 جون کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

یہ بات ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف آسٹریا کے شہر ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنے کے بعد ایران واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مسٹر ظریف مذاکرات میں حائل مشکلات پر رہنمائی حاصل کرنے اور یہ جاننے کے لیے ایران جوہری معائنہ کاروں کو کس حد تک رسائی دے گا ایران جا رہے ہیں۔

ایران کے ساتھ جوہری مذاکرت میں سات ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور اس کے جواب میں ایران کی اقتصادی پابندیاں ختم کرنا ہے۔

امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، چین اور روس چاہتے کہ جوہری معاہدے کی مدد سے ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کیا جا سکے۔

ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اپریل میں جوہری معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہوا تھا لیکن اب جیسے جیسے حتمیٰ معاہدے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے، طے شدہ فریم ورک پر بھی سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔

ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کےذریعے حساس مقامات نگرانی اور اقتصادی پابندیاں اُٹھانے کے فریم ورک پر بھی متفق نہیں ہے۔

امریکی خارجہ اُمور پر بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ نے بتایا کہ ’ امریکی اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈیڈلائن میں بہت زیاد وقت کی توسیع نہیں کی گئی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرت کو امریکہ اور اسرائیل میں بھی کڑی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں