گجرات میں لاکھوں ایکڑ زمین بارش اور سیلاب کی نذر

سوراشٹر تصویر کے کاپی رائٹ ANKUR JAIN
Image caption سوراشٹر کے کسان اکثر خشک سالی کے سبب کھیتی نہیں کرپاتے ہیں

گجرات انڈیا کی ان ریاستوں میں سے ہیں جہاں خراب موسم اور قرض کے تلے دبے کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔

گجرات کے ساحلی علاقے سوراشٹر میں اکثر کسان خشک سالی کے سبب کھیتی باڑی نہیں کر پاتے ہیں لیکن اس بار وہاں مسلسل تیز بارشوں اور سیلاب نے کسانوں کی مشکلیں مزید بڑھا دی ہیں۔

شدید بارش کی وجہ سے سوراشٹر کے امریلی اور بھا‎ونگر اضلاع کے قریب آٹھ سو گاؤں پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

سوراشٹر میں کئی روز سے بارش ہورہی ہے اور وہاں ایک دن میں آٹھ گھنٹے کے اندر تقریبا 35 انچ بارش ہوئی ہے۔

بارش سے امریلی ضلع سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے جہاں کھیتی کی ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر زمین کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

سیلاب کی وجہ سے اب تک پانچ ہزار مویشی بھی مرچکے ہیں جبکہ آٹھ شیر بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریلی کے سکول میں استاد اور ماحولیاتی کارکن منوج جوشی کہتے ہیں ’ سانورکنڈلا اور لمبڈی جیسے علاقوں میں دس سے پندرہ فٹ کیچڑ جمع ہوگئی ہے۔ بیشتر علاقوں میں کسان آئندہ پانچ سے دس سال تک کھیتی نہیں کر پائیں گے۔ ‘ .

تصویر کے کاپی رائٹ ANKUR JAIN

پانی کی کمی اور کھاری مٹی ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے کسان سال میں ایک ہی فصل اگا پاتے ہیں جو کہ مون سون سے پہلے لگائی جاتی ہے۔

سانورکنڈلا کے مگن سالیہ کہتے ہیں ’ اس علاقے میں کپاس اور مونگ پھلی کی کھیتی ہوتی ہے۔ اب بعض کسانوں نے عام کی کھیتی بھی کرنی شروع کردی ہے۔ لیکن عام کی کھیتی بہت کم کسان کررہے ہیں۔ لیکن اس بار مانسون کی بارش سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے گئی‘۔

سوراشٹر کے کجھاڈیا گا‎ؤں میں ایک فارم کے مالک نانا جی بھائی پٹیل کہتے ہیں ’ میں نے کپاس کی کھیتی کے بیج خریدنے کے لیے قرض لیا تھا لیکن سیلاب سے میرے کھیت کو تباہ کردیا۔ سیلاب میرا گھر اور میرے مویشی اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ ‘

گجرات کی ریاستی حکومت نے بارش اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے چار لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دینے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANKUR JAIN
Image caption گجرات میں گزشہ چار سالوں میں تقریبا 90 کسان خودکشی کرچکے ہیں

امریلی کے ضلع کلکٹر ایچ آر سوتار کہتے ہیں ’ ہمیں معلوم ہے کہ بارش اور سیلاب سے زیادہ نقصان کسانوں کو ہوا ہے۔ ہم نے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے سروے کرنا شروع کردیا ہے۔ ہم متاثرہ افراد کو معقول معاوضہ دیں گے۔ ‘

"ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن راجن جوشی کہتے ہیں ’ سوراشٹر گجرات میں کسانوں کی خودکشی کا مرکز ہے۔ یہاں کے کسانوں نے برسوں خشک سالی کے مقابلے میں جدوجہد کی۔ اور اب بے وقت تیز بارشوں اور سیلاب نے انہیں زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ اگر حکومت ان کو معاوضہ نہیں دیتی تو ان کے لیے اپنا پیٹ بھرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ ان میں بہت سے کسان ایسے ہیں جو پہلے ہی مقروض ہیں۔ ‘

گزشتہ چار سالوں گجرات میں 90 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ ان میں سوراشٹر، جام نگر، جونا گڈھ اور امریلی کے 66 کسان شامل ہیں۔

اسی بارے میں