اعتماد کی بحالی دراصل مشکل ترین چیلینج ہے

آئندہ ماہ ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرائے جانے کے واقعے کے 70 سال پورے ہو رہے ہیں۔

6 اگست 1945 کو ایک لحاظ سے دنیا تبدیل ہوگئی تھی۔ پہلے ایٹم بم سے ہونے والی تباہی اور پھر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرائے جانے کے واقعے نے ان بموں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہتھیاروں کے اب تک استعمال نہ ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس وقت امریکہ واحد ملک تھا جس کے پاس ’بم‘ تھا۔

اس کے بعد سے کہانی جوہری طاقتوں میں اضافے کی رہی ہے۔ پہلے روس، برطانیہ، فرانس اور چین پھر اسرائیل(جو سرکاری طور پر تسلیم شدہ نہیں)، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا اس فہرست میں شامل ہوئے۔

عالمی طاقتیں اب تک بظاہر جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہیں اور ایران ہی شاید وہ واحد ملک ہے جس کو جوہری اسلحہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے باز رکھنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ویانا میں ایران کے جوہری معاملات پر جاری مذاکرات سے متضاد اشارے مل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ڈیڈ لاک کی باتیں ہو رہی ہیں تو وہیں دوسری جانب بریک تھرو کا ذکر بھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایران کو روکنا اتنا اہم کیوں ہے؟

یہ سوال جب میں نے چار برس تک برطانیہ کے ایٹمی مذاکرات کار رہنے والے سر جان ساورز سے کیا تو ان کا کہنا تھا: ’اگر ایران جوہری ہتھیار بنا لیتا ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تبدیل ہو جائے گی اور خطے میں ان کے ناقابلِ قبول رویے کی صورت میں کوئی بھی جوابی کارروائی بےاثر ہو جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ US DEPARTMENT OF STATE

امن کے امکانات

سر جان نے مجھے بتایا ’اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہ ہر کسی کو یہ اطمینان دلائے گا کہ ایران اب جوہری ہتھیار بنانے والا نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس اطمینان کے بعد ایران اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے مل کر کام کرنے اور باہمی تعلقات بہتر بنانے کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’فی الوقت مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کی کمی نہیں جن میں سے اکثر کی بنیاد شیعہ سنّی اختلافات ہیں۔ اگر ہم یہ صورتحال پیدا کر دیں کہ سعودی اور ایرانی آپس میں بات کر سکیں اور یہ بات چیت اشتعال پر مبنی نہ ہو تو ایک مختلف مشرقِ وسطیٰ کے قیام کا امکان موجود ہے۔‘

ایران سے جاری مذاکرات پر صرف اگست 1945 کے واقعات ہی گہرا سایہ نہیں بلکہ ایران میں 1979 میں آنے والا اسلامی انقلاب اور اس کے بعد کے حالات میں ایران اور امریکہ کے تعلقات بھی اس بات چیت پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔

اس انقلاب کے نتیجے میں آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں ایرانی قیادت کو جوہری تحقیق کا ایک پروگرام ملا جس کے بارے میں وہ ہمیشہ یہ کہتے آئے کہ ان کا جوہری بم بنانے کا ارادہ نہیں۔

عالمی طاقتوں نے ایران کے اس موقف کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ کہتی رہیں کہ ایران کی جانب سے زیادہ افزودہ یورینیئم بنانے کی کوشش صرف بم بنانے کے لیے ہی ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال میں کئی برسوں سے عائد پابندیوں اور مذاکرات کے نتیجے میں بات اس مقام تک پہنچی ہے کہ جہاں ایک معاہدہ ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی آریان طباطبائی سے جب میں نے دریافت کیا کہ اس بات چیت کا حتمی نتیجہ کیا ہو سکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن رہے اور اس کے لیے کچھ یقین دہانیاں درکار ہیں جن کا مطلب ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا جانا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ معاہدہ عالمی جوہری ادارے کو بھی یہ موقع دے گا کہ وہ ایرانی پروگرام کی مستقل نگرانی کر سکے اور ادارے کے مبصرین کو اجازت دے کر ایران دنیا کو دکھائے گا کہ وہ اپنے وعدے پورے کر رہا ہے۔

یہ وہ صورتحال ہے جس کے نتیجے میں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب ہمارے پاس نہیں اور وہ یہ کہ کیا ایرانی قیادت اس سب کے لیے تیار ہے؟

عین ممکن ہے کہ وہ ملک کی معیشت کو اپاہج بنانے والی اقتصادی پابندیوں سے تنگ آئے ایرانی عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ایسا کر گزریں۔

سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں ایران کی تاریخ پڑھانے والے پروفیسر علی انصاری کہتے ہیں کہ ایران دنیا کی نظروں میں اپنا مقام بہتر کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

’ایرانی چاہتے ہیں کہ دنیا انھیں بطور ایک ایسے ملک کے احترام دے جو اپنے خطے میں تو کم از کم بڑی طاقت ہے۔‘

پروفیسر انصاری کے مطابق ایرانیوں کے لیے ’فخر کی بات یہ ہے کہ وہ ایک جوہری صنعت تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انھوں نے کہا کہ ’بہت سے لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ ایک اسلامی حکومت کو سائنسی طور پر اتنی ترقی پسند نہیں ہو سکتی۔ لیکن ایرانیوں کے لیے یہ ثبوت ہے کہ ایسا ممکن ہے۔‘

لیکن پروفیسر انصاری کو مکمل یقین نہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ممکن ہے اور اگر معاہدہ ہوا بھی تو وہ برقرار رہے گا۔

سر جان کا بھی کہنا ہے کہ ’جب آپ ایران میں قالین خریدتے ہیں تو سودا ایک بار میں نہیں دو یا تین مرتبہ میں ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کبھی کبھی لگتا ہے کہ جوہری مذاکرات بھی اسی قسم کا سودا ہے۔ ایک ایرانی کہاوت ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ہی تو اصل مذاکرات شروع ہوتے ہیں۔ اگر معاہدہ ہو بھی گیا تو اس کا مطلب ہماری زندگی کے دوران یقینی امن نہیں ہے۔‘

اس تمام صورتحال میں دونوں جانب شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

آئندہ چند دنوں میں جو بھی ہو، ایران اور عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے درمیان اعتماد کی بحالی اب بھی سب سے مشکل چیلینج ہے۔

اسی بارے میں