افغانستان سےامریکی فوج کے انخلا پر نظرِثانی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے سنہ 2016 کے آخر تک تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لینے کا وعدہ کر رکھا ہے

امریکی سینیٹ کے آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے امریکی صدر براک اوباما سے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔

جان مکین نے یہ بات سنیچر کو اپنے دورۂ افغانستان کے دوران صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر طے شدہ منصوبے کے تحت سنہ 2106 کے اختتام تک افغانستان سے ساری امریکی فوج کو نکال لیاگیا تو نہ صرف امریکہ اب تک افغان جنگ میں ہونے والی پیشرفت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا بلکہ اس سے ناقابلِ قبول خطرات بھی پیدا ہوں گے۔

ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مکین نے کہا کہ صدر اوباما کی جانب سے صرف ایک ہزار فوجیوں کو کابل میں امریکی سفارتخانے میں چھوڑنا ایک ایسا منصوبہ ہے جو موجودہ زمینی حقائق سے غافل رہتے ہوئے بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی موجودگی اور موسمِ گرما میں لڑائی کے مخصوص سیزن کے تناظر میں خطے میں خطرات کا ماحول مستقل طور پر موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جان مکین نے کہا کہ امریکہ کو فوج کے افغانستان سے انخلا کے لیے ایسا منصوبہ بنانا چاہیےجس میں زمینی حقائق کو مدِنظر رکھا جائے

جان مکین کے مطابق ’میرے خیال میں اس صورتحال میں ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے انخلا کے منصوبے پر نظرِ ثانی کرے اور ایسا منصوبہ بنائے جو زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہو۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دولتِ اسلامیہ نے جس ایک شعبے میں اپنی قابلیت دکھائی ہے وہ نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہم افغانستان میں دولتِ اسلامیہ سے متاثر ہونے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔‘

جان مکین نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں اور افغان طالبان کی لڑائیاں فوری طور پر تو ہمارے لیے فائدہ مند ہیں لیکن طویل المدتی نظریے سے ان دونوں کی موجودگی افغانستان کے لیے مفید نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption افغانستان میں امریکی اور دیگر ممالک کی افواج اب بھی جنگی کردار ادا نہیں کر رہیں اور اب ان کی ذمہ داریاں مقامی افواج کی تربیت تک محدود ہیں

امریکی سینیٹر نے افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی اور انھیں یقین دلایا کہ امریکہ افغانستان کی مدد جاری رکھے گا اور اسے دوبارہ عالمی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دے گا۔

خیال رہے کہ افغان صدر اشرف غنی پہلے ہی کہہ چکے ہیںافغانستان سے آخری امریکی فوجی کو بھی نکال لینے کی مدت پر نظر ثانی کرنے کی ضرورتہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے سنہ 2016 کے آخر تک تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لینے کا وعدہ کر رکھا ہے اور اس دوران افغانستان اپنی سکیورٹی کی ذمہ داریاں خود پوری کرنے لگے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں امریکی اور دیگر ممالک کی افواج اب بھی جنگی کردار ادا نہیں کر رہیں اور اب ان کی ذمہ داریاں مقامی افواج کی تربیت تک محدود ہیں۔

اسی بارے میں