ایک بینک جہاں سے اناج ملتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ SITU TIWARI
Image caption اناج بینک سے تقریباً تین ہزار خواتین وابستہ ہیں

بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے پاس کے ایک گاؤں سندرپور کی خاتون گہنی مانجھی کا کہنا ہے کہ اب انھیں پیٹ بھر چاول کھانے کو مل جاتا ہے۔

جوانی کی نہ جانے کتنی راتیں خالی پیٹ گزارنے کے بعد بڑھاپے میں انھیں پہلی بار پیٹ بھر کھانا نصیب ہو رہا ہے۔

اور ان کی زندگی میں یہ تبدیلی ’اناج بینک‘ کی وجہ آئی ہے۔ اناج بینک وہ بینک ہے جہاں اناج کا لین دین ہوتا ہے۔ اس بینک سے قرض کے طور پر اناج لیا جا سکتا ہے اور یہاں اناج جمع بھی کرایا جا سکتا ہے۔ یہاں سے پانچ کلو اناج قرض لینے پر چھ کلو اناج واپس کرانا ہوتا ہے۔

گہني کہتی ہیں: ’اگر یہ بینک نہ ہوتا تو کھانے کو کچھ نہ مل پاتا۔ شوہر کو روزانہ صرف ڈیڑھ کلو چاول ہی مزدوری ملتی ہے۔ اس میں کچھ کھاتے ہیں، کچھ اناج دے کر اس کے بدلے میں تیل، مسالا، نمک، کپڑا وغیرہ لاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SITU TIWARI
Image caption بہت سے غریبوں کو بینک کی وجہ سے پیٹ بھر کھانا نصیب ہو رہا ہے

اناج بینک کا قیام سنہ 2005 میں عمل میں آیا تھا۔ غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ نے مقامی تنظیم ’پرگتی دیہی ترقی کمیٹی‘ کے تعاون سے پٹنہ سے متصل 60 دیہات میں اناج بینک قائم کیا تھا۔

بینک قائم کرنے کے لیے ہر گاؤں کو پانچ ہزار روپے کے اناج اور اناج رکھنے کے قابل صندوق خریدنے کے لیے 2,500 روپے نقد دیے گئے تھے۔

بینک کے کام کاج دیکھنے کے لیے گاؤں کے مہادلت محلوں (جہاں ذات کے تعلق سے انتہائی پس ماندہ لوگ رہتے ہیں) میں گروپ بنائے گئے۔ ان گروپوں کو چلانے کی ذمہ داری پانچ خواتین کو دی گئی۔ اناج کا پہلا سٹاک بطور قرض تقسیم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پانچ کلو اناج قرض کی ادائیگی چھ کلو اناج ہوگی جیسا اصول بنایا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان کے پاس فصل کاٹنے اور دوبارہ بونے کے درمیان کوئی کام نہیں رہتا

سندرپور میں مسہر ٹولي (مسہر ذات والوں کے محلے) کی گہني نامی خاتون کے شوہر ’بندھوا مزدور‘ (رہنی مزدور) ہیں۔ انھوں نے 11 سال پہلے مہاجن سے 7,000 روپے قرض لیے تھے جس کے عوض میں انھیں ان کے یہاں کام کرنا پڑتا تھا۔

اس قرض کو ادا کے لیے وہ گذشتہ دس سال سے روزانہ ڈیڑھ کلو چاول کی اجرت پر مہاجن کے کھیت میں 12 گھنٹے کام کرنے کو مجبور تھے۔

گہني اور اس کے شوہر کے لیے اناج بینک بڑا سہارا بن کر آیا ہے۔

گہنی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کے گزر بسر کا واحد سہارا کھیتوں میں مزدوری ہے۔ فصل بونے اور کاٹنے کے زمانے کے علاوہ درمیانی وقفے میں ان کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس وقت یہ لوگ ایک ایک دانے کو محتاج ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بینک کو خواتین ہی چلاتی ہیں اور یہ انتہائی پسماندہ علاقوں میں قائم کیا گیا ہے

ایک دوسرے گاؤں مہجپورہ کی شانتی دیوی کہتی ہیں: ’اب ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہے، تو ہاتھ میں پیسے بھی نہیں ہیں۔ ایسے میں ہم اناج بینک سے چاول لے لیتے ہیں، کٹائی ہونے پر اناج واپس کر دیتے ہیں۔‘

اناج بینک کھلنے سے پہلے ان گاؤں میں ’ڈیوڑھيا‘ کا رواج تھا جس کے تحت اناج لینے کے بعد مہاجن کو اس کا ڈیڑھ گنا اناج واپس کرنا ہوتا تھا۔ اناج واپس نہیں کرنے کی صورت میں مہاجن کے کھیت میں کام کرنا پڑنا تھا۔

محمد پور کی كلاوتي دیوی کہتی ہے: ’جب کام نہیں ملتا تھا تو بھوک سے ہمارے پاؤں لڑکھڑاتے تھے، ہمیں بڑے کسانوں پر انحصار کرنا ہی پڑتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے، تو اب بڑے کسانوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ اب ہم ان سے آنکھ ملا کر بات کر سکتے ہیں۔ ہم نے لڑ کر یومیہ اجرت بھی 100 روپے سے 250 روپے کروا لی ہے۔‘

ایکشن ایڈ نے سنہ 2013 میں ہی امداد بند کر دی تھی اور اب اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ خواتین بغیر کسی بیرونی امداد کے اناج بینک چلا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SITU TIWARI
Image caption اس بینک کا قیام سنہ 2005 میں عمل میں آیا تھا

اس بینک سے مختلف محلوں کی تین ہزار خواتین منسلک ہیں۔ اناج ذخیرہ کرنا، قرض، حساب کتاب رکھنا، یہ ساری ذمہ داری ان خواتین کی ہی ہے۔ ان ناخواندہ خواتین نے بینک سے وابستہ ہونے کے بعد پڑھنا لکھنا بھی سیکھ لیا ہے۔

پرگتی دیہی ترقی کمیٹی کے امیش کمار بتاتے ہیں: ’جب ہم نے کام شروع کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ 90 فیصد خاندان بڑے کسانوں کی غلامی کرتے ہیں۔ یہ کسان اپنے طور پر طے مزدوری پر کام کرواتے ہیں۔ ان کا کام ختم کیے بغیر آپ کہیں نہیں جا سکتے۔ اناج بینک کھلنے کے بعد اس میں بھی بہت حد تک کمی آئی ہے۔‘

اسی بارے میں