بھارت میں امتحانی نقل کا وسیع جال

تصویر کے کاپی رائٹ VIPUL GUPTA
Image caption ویاپام کے بورڈ کے زیر انتظام تقریباً 140،000 لوگوں نے میڈیکل امتحان دیے ہیں

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں میڈیکل امتحانات کے بورڈ میں منظم دھاندلی کا سکینڈل اب افسانوی شکل اختیار کر رہا ہے۔

یہ سکینڈل اب اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ اس میں سیاستدانوں اور حکومتی اہلکاروں کی شمولیت کے علاوہ ہزاروں گرفتاریاں اور کچھ اموات بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔

13 جولائی 2013 کو پولیس نے شہر کے ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا جہاں ان کے بقول طلبہ کا ایک گروہ آنے والے میڈیکل امتحانات میں دھاندلی کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔

میڈیکل امتحانات کی منظم نقل کے منصوبے میں ملوث افراد کو بےنقاب کرنے میں ڈاکٹر آنند رائے شروع سے پولیس کی مدد کر رہے ہیں۔

اس واقعے کے چھ دن بعد ڈاکٹر رائے کو ایک غیر شناخت شدہ نمبر سے ٹیلی فون آیا جس میں انھیں قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔

فون کرنے والے نے ڈاکٹر رائے کو خبردار کیا کہ اگر وہ یہ کام کرتے رہے تو ان کے لیے اچھا نہیں ہو گا، اور یہ بھی کہ اگر انھوں نے اس کال کے بارے میں پولیس کو بتایا تو ان کے لیے اور بھی برا ہو گا۔

کالر کی دھمکیوں کو نظر انداز کر تے ہوئے ڈاکٹر رائے نے فوراً نمبر پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے کچھ ہی وقت میں اس نمبر کو ٹریس کر کے ممبئی کے شہر سے ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔

دوران تفتیش پولیس کو معلوم ہوا کہ یہ شخص ایک نجی میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفسر اور میڈیکل امتحانات کی منظم دھاندلی کے منصوبے کا ماسٹرمائنڈ تھا۔

اس شخص نے اعتراف کیا کہ مدھیہ پردیش میں امتحانات کا سرکاری بورڈ ویاپام بھی اس منصوبے میں ملوث ہے۔

ویاپام کے نام سے مشہور یہ سکینڈل بھارت میں اب اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ سنہ 2012 سے کوئی 2530 لوگوں پر اس میں ملوث ہونے کا الزام لگا ہے۔

فی الوقت مدھیہ پردیش کی 20 عدالتوں میں 55 مختلف مقدمے جاری ہیں۔ پولیس نے اب تک 1980 افراد کو گرفتار کیا ہے جب کہ 550 افراد مفرور ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق سنہ 2007 سے ویاپام کے بورڈ کے زیر انتظام 140،000 لوگوں نے میڈیکل امتحان دیے ہیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے 1000 سے زیادہ افراد کی غیر قانونی طور پر تقرری ہوئی ہے ۔

امتحانات میں منظم دھاندلی کے کئی طریقے استعمال کیے گئے۔

حل شدہ پرچہ فراہم کرنے کے علاوہ لائق اور عقلمند نوجوانوں کو بھی استعمال کیا گیا جو دوسروں کی شناخت اختیار کر کے ان کےجگہ امتحان دیتے تھے۔

یہ سہولت صرف دس لاکھ روپے میں دستیاب تھی۔

لیکن یہ سب سے حیران کن بات بھی نہیں۔ گذشتہ دو سال میں اس سکینڈل سے منسلک 33 افراد مختلف غیر طبعی حالات میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان میں سے دس لوگ ٹریفک کے حادثوں میں ہلاک ہوئے ہیں جو پولیس کے مطابق خود ہی شک کا باعث ہے۔

ویاپام سکینڈل میں مدھیہ پردیش کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی بڑی بڑی شخصیت بھی نامزد ہوئی ہیں۔

اس میں بی جے پی کے ایک سابق وزیر، اور اس کے اعلیٰ عہدے دار کے ذاتی معاون، ایک مشہور نجی میڈیکل سکول کے مالک، ایک سینیئر پولیس افسر کے بھائی اور ریاستی گورنر اور چیف منسٹر کے قریبی رفقا بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں